40

الیکشن سر پر’ اتحادی ناراض’ حکومت پریشان (اداریہ)

موجودہ سیاسی حالات اور حکومت میں شامل اہم اتحادی جماعت پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت سے گلے شکوے شروع کر دیئے جو وزیراعظم کیلئے پریشانی کا سبب ہیں جبکہ مہنگائی سے تنگ عوام پہلے ہی حکومت سے نالاں ہے اوپر سے دو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے تحریک انصاف چاہتی ہے کہ ملک بھر میں ایک بار عام الیکشن کرا دیئے جائیں تاکہ سیاسی استحکام کا خاتمہ ممکن ہو سکے حکمران بُری طرح پھنس چکے ہیں ملک کو معاشی ابتری اور دہشت گردی کے جن سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا ضروری ہے تاہم حالات جس سمت جا رہے ہیں اس سے ملک میں سیاسی بے یقینی مزید بڑھتی جا رہی ہے حکمران اتحاد میں اختلافات کی جھلک دکھائی دے رہی ہے پیپلزپارٹی کی جانب سے وزارتیں چھوڑنے کی دھمکی لمحہ فکریہ ہے حکومت سندھ نے سیلاب متاثرین کے حوالے سے وفاقی حکومت کی طرف سے وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کی جبکہ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے مردم شماری اور انتخابی فہرستوں کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم کو متنبہ کیا ہے کہ انکی جانب سے آخری بار یاد دلایا جا رہا ہے کہ آپ پر ہماری تنظیم کا بھی قرض ہے یوں وزیراعظم کو دو اہم اتحادیوں کے تحفظات نے پریشان کر دیا ہے عمران خان کی نفرت اور انتشار پر مبنی سیاست حکومت کیلئے مستقل مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے اور انہوں نے دو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر کے اتحادی حکومت کیلئے مشکلات میں اضافہ کیا ہے عمران خان فارن فنڈنگ اور کرپشن سمیت متعدد سنگین الزامات کے تحت قائم مقدمات میں مطلوب ہونے کے باوجود تاحال گرفتار نہیں کئے جا سکے عدالتوں سے انہیں ریلیف مل رہا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ PTi کی افراتفری کی سیاست کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کو اتحادیوں کی ناراضگی اور عوام کی بے چینی کا بھی سامنا ہے وفاقی حکومت اس وقت بڑی مشکل میں ہے اور اس مشکل کو اس نے خود گلے میں ڈالا ہے اتحادیوں کی طرف سے جو بیانات سامنے آ رہے ہیں ان سے بھی پتہ چلتا ہے کہ حکومت میں شامل کچھ جماعتیں تو آپس میں رابطے میں ہیں لیکن سب سے مشاورت کر کے قومی سطح کے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس کی وجہ سے تحفظات پیدا ہو رہے ہیں حکومت اگر ان مسائل کا حل فراہم نہ کر سکی تو اس کا شائد کوئی نقصان نہیں ہو گا لیکن ملک اور عوام غلط فیصلوں کی قیمت چکائیں گے، مہنگائی نے عوام کا جو حال کیا ہے وہ بیان سے باہر ہے موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جب ملک میں آئے تو انہوں نے عوام کو یہ تسلی دی تھی کہ وہ روپے کی قدر میں اضافہ کر کے مہنگائی کے آگے بند باندھ دیں گے مگر ان کی جادوگری بھی کام نہ آ سکی اور ملک کے عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو گئی کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا نہ کر سکے نہ ڈالر کو کنٹرول کیا جا سکا نہ مہنگائی کو اگر یہ کہا جائے کہ اسحاق ڈار کی صرف بڑھکیں ہی تھیں تو یہ بے جا نہ ہو گا مہنگائی کا گراف آسمان کو چھو رہا ہے حکومت کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں پی ڈی ایم کی حکومت کو سب سے بڑا خطرہ مہنگائی سے ہے کہ عوام ان کو مینڈیٹ نہیں دے گی مسلم لیگ (ن) کا گڑھ پنجاب بھی ان کی گرفت سے نکلتا نظر آ رہا ہے جو ان کیلئے لمحہ فکریہ ہے وفاقی کابینہ کے مہنگائی پر قابو پانے سیاسی استحکام لانے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے کمزور فیصلے عوام کے سامنے آ رہے ہیں اور دن بدن عوام میں اتحادی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اوپر سے الیکشن سر پر ہیں اور عوام فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ ووٹ کی طاقت سے حکومت سے انتقام لیں گے لہٰذا وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو آنے والے وقت کا تصور کرکے فوری اور مؤثر فیصلے کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ پی ڈی ایم نے جو جدوجہد کی تھی وہ بے کار چلی جائے آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے ملک کی بھاری اکثریت فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے قومی معیشت کو بربادی کی دلدل سے نکالنے کیلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے لہٰذا حکمران اتحاد کو اپنے اختلافات کا حل تلاش کرنا ہو گا بلکہ اپوزیشن کو بھی مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا عمران خان نے سمجھوتے کی پیشکش کی ہے حکمران اتحاد اس پیشکش کو احتسابی عمل کے جاری رہنے کی شرط کے ساتھ قبول کر کے ملک کو سیاسی بے یقینی سے نجات دلانے کی کوشش کر سکتا ہے،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں