30

امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے پاکستان کے پاس سنہری موقع

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)واشنگٹن میں رواں ہفتے ہونیوالی ڈیموکریسی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک ٹیسٹ ہوگا جہاں اپنے دیرینہ اتحادی چین کو ناراض کیے بغیر امریکا سے تعلقات بہتر کرنے کا موقع ملے گا۔امریکا کی قیادت میں ہونے والی ورچوئل سربراہی کانفرنس کا آغاز کل ہوگا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو 2021 میں پہلی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جہاں بھارت نے شرکت کی تھی لیکن پاکستان شامل نہیں ہوا تھا۔امریکا میں منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہ کرنے پر پاکستان نے دوری اختیار کی تھی۔معاشی بحران سے دوچار پاکستان کے لیے یہ کانفرنس بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے امریکا کی حمایت کا ایک موقع ہوسکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کا سدابہار دوست اور قریبی اتحادی ان اقدامات کا قریب سے جائزہ لیتا رہے کیونکہ امریکا نے چین کے بجائے ان کے درمیان جھگڑے کا باعث بننے والے تائیوان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔چین نے اگر پاکستان کو اس متنازع کانفرنس میں شرکت سے روکنا چاہا تو اس سے امریکا کے لیے منفی تاثر جائے گا ایک ایسے موقع پر جب اسلام آباد چاہتا ہے کہ واشنگٹن عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)سے قرض حاصل کرنے کے لیے ان کی حمایت کرے۔پاکستان کے لیے اس کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے ایک اور پیچیدہ معاملہ ترکیے کو شرکت کی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ولسن سینٹر واشنگٹن میں جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگیلمین نے کہا کہ یہ خیال ہے کہ پاکستان دوبارہ شرکت نہ کرے یہ جانتے ہوئے کہ چین کے بجائے وہاں تائیوان شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس کے برخلاف اس تاثر کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیتا کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت ہوگی، وہ حال ہی میں امریکا آتے رہے ہیں۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا توجواب ملا کہ انہیں اس حوالے سے تاحال اسلام آباد سے کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔سفارت خانے کے عہدیدار نے بتایا کہ یہ ورچوئل کانفرنس ہے، اس لیے پاکستان کے پاس شرکت کے حوالے سے فیصلے کرنے کے لیے وقت ہے، شرکت کی تصدیق پیر کو ہوسکتی ہے۔گلوبل ڈیکلریشین آف میئرز فار ڈیموکریسی کے عنوان سے ورچوئل کانفرنس کا انعقاد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور یوایس ایڈ نے مشترکہ طور پر کر رہا ہے۔کانفرنس میں جمہوری اقدار میں شہروں اور ذیلی حکومتوں کا کردار اور عالمی سطح پر جمہوریت کی تجدید پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکا کے ساتھ کوسٹاریکا، نیدرلینڈز، جمہوریہ کوریا اور جمہوریہ زیمبا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی دوسری عالمی کانفرنس 29 اور 30 مارچ کو ہوگی۔امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن اکثر پروگراموں میں شرکت کریں گے، بلنکن 28 مارچ کو ایک ورچوئل سیشن کی صدارت کریں گے جو یوکرین میں فوری اور پائیدار امن کے عنوان سے ہوگا اور اس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شرکت کریں گے۔کانفرنس کے مشترکہ میزبان ممالک کے سربراہان 29 مارچ کو ورچوئل سیشن میں شرکت کریں گے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کانفرنس کے آغاز سے قبل جاری کی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے لیے قابل اعتبار انتخابات کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے جمہوریت کی افادیت سے متعلق عوامی تاثر کو شکل دیتی ہیاور عوام کے خواہش کے اظہار کے لیے ضروری ہے۔مزید بتایا گیا کہ ایک ملک کے انتخابات کی ساکھ یا دوسرے الفاظ میں بین الاقوامی معیار کے موافق اپنائے گئے اقدامات اس حکومت کی قانونی حیثیت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔دستاویز میں کہا گیا کہ مذاکروں میں جمہوری ممالک میں کرپشن کے خاتمے کی کوششوں پر توجہ دی جائے گی۔کرپشن کے خاتمے کے عنوان پر 4 سیشنز ہوں گے، جن میں بین الاقوامی تعاون برائے انسداد بدعنوانی، مالی شفافیت اور دیانت، غیرسرکاری اسٹیک ہولڈر اور ٹیکنالوجی اور انسداد کرپشن کے موضوع پر سیشنز شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں