29

دو ٹرینیں پرائیویٹ کمپنیوں کودینے کا معاہدہ غائب ‘ کروڑوں کا نقصان

فیصل آباد (آن لائن) غوری اور بدر ایکسپریس کا پرائیویٹ کمپنیاں اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ غائب، معاہدے کے برعکس ٹرینوں میں تین گنا سے زائد مسافروں کوٹکٹ جاری کرنے کا انکشاف، مسافر بھیڑ بکریوں کی طرح مجبوری میں سفر کرتے ہیں، محکمہ ریلوے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان،پرائیوٹ کمپنیاں نے ریلوے مسافروں کو لوٹنا شروع کردیا،نجی کمپنی کا ٹھیکیدار پہلے ہی بلیک لسٹ ہے آن لائن کے مطابق غوری اور بدر ایکسپریس فیصل آباد سے لاہور سے فیصل آباد کیلئے ریلوے انتظامیہ اور نجی کمپنیوں کے درمیان2021 کوایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پرائیوٹ فرم نے محکمہ ریلوے کو دوٹرینوں کے عوض 20 کروڑو روپے سالانہ ادا کرنے تھے اور پرائیوٹ فرم نے محکمہ ریلوے کو ہر ہفتے ایڈوانس رقم ادا کرنے کی پابند تھی جبکہ محکمہ ریلوے کے معاہدے کے تحت ٹرینوں نے فیصل آباد سے لاہور سے فیصل آبادسفر صرف تین سٹاپ کے ساتھ 2گھنٹے 10منٹ طے کرنا تھا فیصل آباد سے لاہور اور لاہور سے فیصل آباد چلنے والی دو گاڑیاں بدر ایکسپریس اور غوری ایکسپریس سابقہ چیئرمین سیکرٹری ریلوے بورڈ نے ریلوے ہیڈ کوارٹر کے آفیسرز کے ساتھ ملی بھگت کر کے پرائیویٹ لوگوں کو دی جانے والی گاڑیوں کا کوئی معاہدہ نہ تو اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد اور نہ ہی ریلوے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کے پاس ہے صبح 6بجے لاہور کیلئے روانہ ہو نے والی بدر ایکسپریس جو لاہور سے 9بجے واپس آتی ہے یہ شالیمارایکسپریس کے سابقہ ٹھیکیدار جو بلیک لسٹ ہے اس کو اور دوپہر 3بجے چلنے والی غوری ایکسپریس عرفان بھٹی نامی ٹھیکیدار کے حوالے کی ہوئی ہے گاڑی میں 924 مسافروں کی جگہ ہے مگر دوہزار مسافروں کو ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے عورتوں بچوں سمیت مسافروں کی تذلیل کی جاتی ہے فی مسافر 320 روپے فیصل آباد تا لاہور کرایہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ گاڑی میں موجود سیٹوں کے حساب سے فیصل آباد تا لاہور 924 مسافروں کا کرایہ 2لاکھ 95ہزار 680 روپے اسطرح دوچکر آنے اور جانے کا ایک دن کا کرایہ 11لاکھ 82ہزار 720 اور ایک سال 365 دن کا اصل کرایہ 43کروڑو 16لاکھ 92ہزار 800 مگر یہ دونوں ٹھیکیدار 924 مسافروں کی جگہ 2000 مسافروں کو ٹکٹ جاری کرتے ہیں مسافر بھیڑ بکریوں کی طرح مجبوری میں سفر کرتے ہیں جبکہ اس گاڑی کا معاہدہ کسی بھی ذمہ دار افسران کے پاس نہ جبکہ ریلوے کا ایکٹ نمبر 67 اس کی اجازت نہیں دیتا اوریہ معاہدہ سابق وزیرریلوے شیخ رشید احمد اور سابق چیئرمین ریلوے حبیب گیلانی کے دبائو پر ریلوے انتظامیہ کی مخالفت کے باجود نجی کمپنیوں کو دیا گیا تھا گذشتہ کئی ماہ سے پاکستان ریلوے انتظامیہ کو نجی ٹرینوں میں گنجائش سے تین گنا زائد مسافروں کو ٹکٹ جاری کرنے اور جگہ جگہ سٹاپ کرنے کی شکایات موصول ہورہی تھیں جس پر ریلوے انتظامیہ نے تحقیقات شروع کیں تو معلوم ہوا کہ ریلوے ہیڈکوارٹر سمیت فیصل آباد ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ کے پاس بھی نجی کمپنیوں سے معاہدے کی کوئی دستاویزات موجود نہ ہیں جس پر ریلوے انتظامیہ پریشان ہے۔ اس سلسلہ میں آن لائن کو بتایا گیا ہے کہ غوری اور بدر ایکسپریس کا پرائیویٹ کمپنیاں اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان ہونے والامعاہدہ صرف ایک سال کیلئے تھا مگر ریلوے کے کرپٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے تاحال جاری ہے جس سے محکمہ ریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہاہے جبکہ محکمہ ریلوے کے پاس اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور دیگر ملازمین کو بروقت دینے فنڈز موجود نا ہیں معاہدہ کے سلسلہ میں ایس ایس ریلو ے فیصل آباد یونس بھٹی کا کہناہے کہ غوری اور بدر ایکسپریس ٹرینوں کاپرائیویٹ کمپنیاں سے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے اورنہ ہی مجھے علم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں