59

رائے منظور ناصر کی تحریک

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
میں رائے منظور ناصر کی تحریر کی ہوئی سیرت النبی پر اس سے پہلے اپنے ایک کالم میں اپنی رائے دے چکا ہوں۔ تاہم اس وقت مصنف مذکور کا دعوی تھا کہ وہ سیرت النبی کے موضوع پرایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کروائیں گے اور کامیاب ہونے والے امیدواروں میں پچاس لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔ کل کس نے دیکھی ہے۔ یہ تو کتاب کی مارکیٹنگ کا معاملہ ہے اور اتنے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے۔ اس وقت اس قسم کے سوالات ہم سب کے ذہنوں میں گھوم پھر رہے تھے لیکن جنون تو جنون ہوتا ہے وہ تھوڑا چپ کر کے بیٹھ جائے گا۔ ویسے بھی اہداف کا حصول یقینی بنانا اولوالعزم لوگوں کا مشن ہوتا ہے اور پھر رائے منظور ناصر کے ہاں “نصرمن اللہ و فتح قریب” کا تصور لوہے پر لکیر ہے۔ روحانیت پر وہ ویسے بھی یقین رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سیرت النبی کی کتاب کی تکمیل کے لئے انتہائی عاجزی و انکساری سے عرض کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کتاب مذکور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی جس پر حسن نثار جیسے معروف نقادکو بھی کہنا پڑا کہ میں پوری طرح سیرت کا طالب علم ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے کہ میں نے اس کتاب میں بے شمار نئی چیزیں پڑھی ہیں۔ ایک محقق کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے نتیجے میں نئے نئے حقائق منظر عام پر لائے۔ سیرت نگاری یقییننا ایک حساس موضوع ہے۔ افراط وتفریط کے نتیجے میں لکھاری اور اس کا تخلیقی کام دونوں تباہ و برباد اور غارت ہو سکتے ہیں۔ قائم دائم ذات خدا دی۔ خیر محبت رسول سے سرشار رائے مذکور نے آج اپنے دعوے کے پودے کو پروان چڑھا دیا ہے۔ مقابلے میں ساری دنیا کے مسلمان شریک ہو سکتے تھے۔ تاہم اڑھائی ہزار پاکستانی مردوزن نے اس امتحان میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر دو سو افراد کامیاب قرار دیئے گئے۔ جن میں سے بارہ امیدواران کو حتمی طور پر کامیاب قرار دیا گیا۔ یوں کتاب کے خالق نے اپنی بات سچ کر دکھائی اور عوام، اللہ اور اس کے رسول کے حضور سرخرو ہو گیا۔ آج کے دور میں کتاب کے ساتھ انسان کا تعلق تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ ان حالات میں مقابلہ کی فضا قائم کرکے لوگوں کو سیرت النبی پڑھنے کی ترغیب دلانا ایک منفرد اور اچھوتا خیال ہے یہ بات مصنف کی سوچ، خیال و نظر میں بے پناہ وسعت کا پتہ دیتی ہے۔
اسلام میں قرآن مجید اور سیرت النبی /سنت رسول کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ بد قسمتی سے قرآن مجید کو ہم نے غلافوں میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیا ہے۔ اور مزید ہم سیرت الرسول کی حدود و قیود کے بارے میں تشکیک کا شکار ہو گئے ہیں۔ چوہدری محمد سرور سابق گورنر پنجاب نے تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک دفعہ ٹونی بلیر سابق وزیر اعظم برطانیہ سے ملنے گئے تو اس نے انکو بتایا کہ وہ تین دفعہ ترجمے کے ساتھ قرآن مجید پڑھ چکا ہے جس پر چوہدری صاحب کو اپنی اور اپنی قوم کی حالت زار پر بڑی پریشانی بھی ہوئی اور ندامت بھی ہوئی۔ ہم نے قرآن کو رسم ختم کے لئے رکھا ہوا ہے اور شاید ہمیں الکتاب کی جامعیت، فصاحت و بلاغت اور مقاصد نزول کا پوری طرح ادراک ہی نہیں ہے۔ محترم محمد بلیغ الرحمن گورنر پنجاب نے بھی اپنی تقریر میں ایک امریکی مصنف مائیکل ہارٹ کا حوالہ دیا اور سامعین کو بتایا اس نے دنیا کے سو عظیم ترین افراد کا تعین کیا ہے اور ان سو افراد میں سے نمبر ون ہمارے نبی سیدنا محمد الرسول اللہ قرار دیئے گئے ہیں اور مصنف مذکور نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس پہلی پوزیشن کے بارے میں واضح کیا ہے کہ اس کا خیال تھا حضرت عیسی علیہ السلام ہی اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہونگے لیکن جب اس سلسلے میں بنائی گئی کمیٹی نے پورے حقائق کی چھان بین کی تو ممبران کمیٹی کو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا پوری دنیا میں نہ تو کوئی جنگجو نظر آیا، نہ سپہ سالا، نہ خاوند، نہ راہنما، نہ منصف، نہ منتظم، نہ حکمران، نہ باپ، نہ مصلح،نہ معلم، نہ منصوبہ ساز، نہ واعظ، نہ مبلغ،نہ صادق،نہ امین اور نہ کوئی انسان نظر آیا تو انہوں نے طوعاً و کرھاً یہ قرار دیا کہ “بعد از خدا بزرگ تو ای قصہ مختصر”۔ کاش آج کا مسلمان اپنی آنکھیں کھول کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہو جاتا تو وہ اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں لا کر دنیائے عالم میں راہبری و راہنمائی اور خیر کا کام سر انجام دے سکتا تھا۔
آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمان کا تعلق قران اور سنت سے جوڑا جائے۔ ویسے بھی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا تھا کہ اے مسلمانو میری بات غور سے سنو اور ان لوگوں تک پہنچائو جو اس وقت میدان عرفات میں موجود نہیں تھے اور پھر وہ لوگ آنے والے لوگوں تک پیغام پہنچائیں گے یوں یہ سلسلہ قیامت تک کے انسانوں تک جاری و ساری رہیگا۔ مذکورہ فرمان نبوی کے تحت اب ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اس پیغام کو پہلے اپنے اوپر لاگو کریں اور پھر اس پیغام کو پوری محنت اور لگن سے ساری دنیا تک پہنچائیں۔ رائے منظور ناصر نے مقابلہ جات کا انعقاد کرکے عصر حاضر میں ایک نئے انداز سے انذارو تبلیغ کا آغاز کردیا ہے اور بقول معروف کالم نگار اور دانشور مجیب الرحمن شامی “راجپوتاں دا منڈا نمبر لے گیا” اور یہ کہ سیرت النبی کے موضوع پر مقابلے کا امتحان منعقد کرکے مولف نے ایک تحریک کا آغاز کر دیا ہے اب ہم سب نے اس عظیم کام کا حصہ بننا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پہلی بارہ پوزیشن کے حامل افراد کاتعلق دینی مدارس سے ہے۔ یا تو اس مقابلہ کی پوری طرح تشہیر نہیں کی گئی ہے یا ہماری جامعات کی اس سلسلے میں دلچسپی ہی نہیں ہے یا پھر واقعی مدارس کی تعلیم غیر رسمی ضرور ہے لیکن اس کا معیار آج بھی قابل تعریف ہے۔ ایک وقت تھا جب مدارس میں قرآن حدیث، فقہ، فلسفہ، منطق، صرف و نحو، کیمیا، طبیعیات، علم فلکیات اور دیگر علوم پڑھائے جاتے تھے۔ منشی فاضل اور درس نظامی جیسے نصاب کے فارغ التحصیل طلبا عالم،فاضل اور مفتی بنتے تھے۔ بدقسمتی سے ان اداروں کے خلاف دانستہ طور پر اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک خاص فضا قائم کردی گئی اور کچھ “سانوں مرن دا شوق وی سی”۔ متذکرہ بالا انٹر نیشنل مقابلہ جات بابت سیرت النبی از رائے منظور ناصر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں اور خصوصا جامعات کے لئے لمحہ غور و فکر ہے۔ بہر حال اگلی دفعہ ان اداروں کے طلبا کو اب قسمت بھی آزمانا ہوگی اور محنت بھی کرنا ہوگی۔ ویسے ہم سب کو اس مقابلے کے امتحان میں حصہ لیناچاہیئے۔ امتحان کی تیاری کے نتیجے میں ہم ہادی برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات سے مکمل طور پر روشناس بھی ہو جائینگے اور مقابلہ جیتنے کی صورت میں ہماری معیشت جائز طریقے سے بہتر ہو سکتی ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کا واحد حل سیرت طیبہ پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ آئیے گرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو رائے منظور ناصر کی تحریک کا حصہ بنتے ہیں۔
بلغ العلی بکمالہ کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ والہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں