18

سیاسی بنیادوں پر قائم کیسز ختم کرنے کیلئے کمیٹیاں قائم (اداریہ)

محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کے تھانوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف اب تک بنائے جانے والے سیاسی اور فضول بنیادوں پر قائم کیسوں کا جائزہ لیکر انہیں ختم کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں قائم کر دی ہیں ان کمیٹیوں کے کنوینئر ڈپٹی کمشنر ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اور ایک منتخب ممبر ہو گا جس کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر کرے گا اس حوالے سے بنائے گئے ٹی او آرز کے مطابق یہ کمیٹیاں ہر تھانے میں سیاسی اور فضول بنیادوں پر بنائے گئے کیسوں کا جائزہ لیں گے اور مناسب کارروائی کی سفارش کریں گی ڈپٹی کمشنر وہ سفارشات پنجاب پبلک پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو اس پر کارروائی کیلئے بھجوائیں گے،، محکمہ داخلہ پنجاب کا سیاسی جماعتوں پر بنائے گئے کیسز کے خاتمے کیلئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (DC) کی سربراہی میں کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ قابل تحسین ہے اس فیصلے کے سیاسی جماعتوں پر فضول کیسوں کی حقیقت عوام پر کھل سکے گی اور ایسے کیسز کے خاتمہ کے بعد سیاسی راہنمائوں کو عدالتوں کے چکر لگانے سے نجات ملے گی اصولی طور پر تو ایسے کیسز کا جائزہ لینے کیلئے وفاق اور چاروں صوبوں میں کمیٹیاں بننی چاہئیں صرف پنجاب میں نہیں! ہمارے ملک میں اقتدار میں آنے کے بعد مخالفین پر بے بنیاد اور فضول کیسز بنانے اور ان کو عدالتوں میں گھسیٹ کر بے توقیر کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے ایسا ہو رہا ہے بااثر شخصیات اپنے محکوموں کو قابو میں کرنے کیلئے بے بنیاد کیسز بنا کر انہیں بے بس اور خوفزدہ کئے رکھتے ہیں سندھ میں ایسے بہت سے واقعات منظرعام پر آ چکے ہیں اس کے علاوہ پنجاب بلوچستان کے پی کے میں بھی سیاسی مخالفین کے خلاف ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں فضول کیسز کا جائزہ لیکر انہیں ختم کرنے کیلئے جو قدم اٹھایا ہے اس پر عملدرآمد کیلئے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز پر بھاری ذمہ داریاں آن پڑی ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کمیٹیوں کے ممبران سیاسی جماعتوں کے خلاف قائم کیسز کا بغور جائزہ لے کر میرٹ کو مدنظر رکھیں حکومت یا بااثر سیاسی شخصیات کے دبائو میں نہ آئیں نہ ہی دوستی نبھائی جائے بلکہ جو بھی سفارشات تیار کی جائیں وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کمیٹی پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں