79

شہباز حکومت کو سنگین بحرانوں کا سامنا

اسلام آباد (بیوروچیف)پاکستان میں گذشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے بعد شہباز شریف دوسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے انتخاب کے بعد ملک میں عام انتخابات سے قبل پائے جانے والی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال وقتی طور پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔تاہم پاکستان کے مسائل وہیں ہیں جہاں انتخابات سے قبل تھے۔ عام آدمی کو مہنگائی کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے۔ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر اب بھی زیادہ بہتر حالت میں نہیں، جن کا زیادہ تر دارومدار بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم اور قرضوں پر ہے۔دوسری طرف پاکستان کو بڑے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی گذشتہ چند ماہ کے دوران خاطر خواہ ریکوری نہیں کر پائی اور بظاہر پاکستان میں معاشی بحران جوں کا توں ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف لینے کے بعد ہی اپنی ٹیم کو آئی ایم ایف سے رابطہ کر کے نئے اقتصادی پیکج کے لیے بات چیت کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔اقتصادی ماہرین جہاں اس کو مثبت سمت میں ایک قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہیں وہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں۔شہباز شریف ایک مرتبہ پھر اتحادی حکومت کے سربراہ بنے ہیں۔ وہ کتنے طاقتور وزیراعظم ہوں گے اور کتنے مشکل فیصلے لے پائیں گے؟ اس حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔سابق وزیرِاعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے نمائندے عددی اعتبار سے ایک مضبوط حزب اختلاف کے طور پر پارلیمان کے اندر بھی موجود ہیں اور حکومت کی ایک بڑی مخالف جماعت کے طور پر سڑکوں پر بھی احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ان کا بیانیہ یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے جو انھیں واپس ملنا چاہیے۔ ایسے حالات میں آنے والی شہباز شریف کی حکومت کو کئی مشکلات کا سامنا ہو گا۔یہاں ہم پانچ ایسے بڑے چیلنجز پر نظر ڈالتے ہیں جو شہباز حکومت کو درپیش ہوں گے۔تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ معاشی اعتبار سے شہباز حکومت کو بنیادی طور پر تین قسم کے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ان کے خیال میں حکومت کو درپیش پہلا چیلنج مشکل اقتصادی فیصلوں پر عملدرآمد کا ہو گا۔ اگر ان کا مرکزی حکومتی پارٹنر (پی پی پی)کابینہ میں اِن کا اتحادی نہیں بنتا تو یہ ایک غیر مستحکم حکومتی اتحاد ہو گا۔ اقتصادی فیصلوں اور معاشی ڈھانچے کی اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے اتفاق پیدا کرنا مشکل ہو گا جن کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔ غیر مستحکم اتحادی حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنا بھی مشکل ہو گا۔اس مرتبہ آئی ایم ایف سے مذاکرات پہلے سے زیادہ سخت ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں اگر حکومتی فیصلوں میں ہم آہنگی نہیں ہو گی تو اس کا فائدہ آئی ایم ایف کو ہو گا۔اس کے نتیجے میں قرض دینے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط زیادہ سخت ہو سکتی ہیں۔ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ساجد امین کہتے ہیں کہ نئی حکومت کے لیے دوسرا بڑا چیلنج مہنگائی ہو گا۔ ان کے خیال میں فی الوقت مہنگائی میں کمی کا رجحان ہے تاہم آنے والے دنوں میں یہ بڑھنے کی طرف جائے گا۔جیسے ہی آپ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے تو مہنگائی بڑھے گی ‘حکومت کے لیے تیسرا چیلنج یہ ہو گا کہ مہنگائی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کی وجہ سے ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔اس لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوں گے اور جب پیسے نہیں ہوں گے تو وہ عام آدمی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ریلیف کی سکیمیں نہیں چلا سکے گی۔ ساتھ ہی اس پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی برقرار رہے گا۔ ایسی صورتحال میں اس مرتبہ ن لیگ کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ ان کو زیادہ کام کرنا پڑے گا۔تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت استحکام لانا چاہے تو اس کے پاس اپوزیشن کو آفر کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ن لیگ اس مرتبہ اس بات پر انحصار کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی فی الوقت کسی قسم کا ملک گیر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے وہ بظاہر ذہنی طور پر تیار نظر آتے ہیں۔ ایسے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو گی اور انتشار کی ایک فضا بنی رہے گی جو ملک کی معیشت کے لیے بھی اچھا نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم منتخب کرنے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مدد کی ہے اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنوایا ہے۔ تاہم وہ اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو بعض سیاسی اور اقتصادی ماہرین دو مختلف نظریات اور مختلف پالیسی رکھنے والی ملک کی دو بڑی جماعتوں کے حکومتی اتحاد کو ایک غیر مستحکم اتحاد کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس کے ملک کی معیشت پر منفی اثرات اپنی جگہ لیکن کیا شہباز حکومت کو حکومت بچانے میں بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ان کے خیال میں اس وقت ان دونوں سیاسی جماعتوں کی بقا اسی میں ہے کہ وہ کچھ ڈلیور کر کے دکھائیں۔ اس لیے ایک دوسرے کا ساتھ ایک طرح سے دونوں کی ضرورت ہے۔تجزیہ نگار کے خیال میں آگے چل کر اس میرج آف کنوینیئنس میں ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ عمران خان کی جماعت کو بھی سیٹل ڈاون کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا ہے کہ پاور شیئرنگ کا ایک ایسا فارمولا ترتیب دیا گیا ہے کہ دونوں اتحادی جماعتوں کو کچھ نا کچھ مل رہا ہے۔ اگر ایک کے پاس وزیراعظم اور حکومت ہے تو دوسرے کو صدر کا عہدہ اورگورنرز وغیرہ مل رہے ہیں یا سینیٹ میں چیئرمین شپ مل رہی ہے۔اس لیے ان کے خیال میں شہباز شریف کو حکومت بچانے کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تاہم معیشت ایک ایسی چیز ہے جس پر دونوں جماعتوں کے درمیان بعض مقامات پر اختلاف ہو سکتا ہے کیونکہ معیشت کے حوالے سے پی پی پی کی اپنی ایک پالیسی رہی ہے۔ پی پی پی تاریخی طور پر اس بیانیے کی قائل بھی رہی ہے کہ ایک منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے چاہیے۔ ان کے خیال میں بہت ہی برے حالات میں پی پی پی کسی ان ہاس تبدیلی کی طرف جا سکتی ہے تاہم اس کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ماضی کی حکومتوں کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے تعلقات ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خراب ہوئے۔ پاکستان میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم آج تک اقتدار کے پانچ سال مکمل نہیں کر پایا۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ شہباز شریف کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف نظریاتی طور پر کبھی اسٹیبلشمنٹ کے مخالف نہیں رہے یہاں تک کہ انھوں نے اس بات پر اپنے بھائی کی بھی مخالفت کی۔وہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف ہمیشہ سے اس بات کے قائل رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ ملا کر کام کرنا چاہیے۔ ماضی کے رہنماں کی طرح ان کے حوالے سے پرسنیلٹی کیلش یا انا کا مسئلہ بھی نہیں ہے اس لیے اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ان کے تعلقات خراب ہوں۔شہباز شریف کے لیے آرمی چیف کو اگر وہ چاہیں تو ان کے عہدے پر توسیع (مدت ملازمت میں)دینا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس وقت سیاسی سہارے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں اور خاص طور پر حالیہ انتخابات کے بعد جو ایک طرح کی اسٹیبلشمنٹ مخالف لہر چلی ہے وہ چاہیں گے کہ اس وہ اس سے باہر آئیں۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ یہاں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ سیاستدان اس صورتحال سے کیسے کام لیتے ہیں۔ اگر وہ فوج کو واپس بیرکس میں بھیجنا چاہتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہترین موقع ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں