32

صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ملتوی ہونے کا امکان (اداریہ)

سیاست کا کھیل نرالا ہے جو اس کھیل میں پڑ گیا پھر نہ اس نے سیاست کو چھوڑا نہ سیاست نے اسکو گزشتہ چند دہائیوں سے وطن عزیز میں سیاست نے جو رنگ ڈھنگ اختیار کئے ہیں کبھی نہ تھے سیاستدان اب تو اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ عوام ان کی ہر بات کو سچ سمجھنے لگتے ہیں کسی سیاستدان کو ملک وقوم کی پرواہ نہیں، پارلیمنٹ میں ملک اور قوم کے مسائل حل کرنے کے بجائے دھرنوں’ ریلیوں’ احتجاجی تحاریک پر زور دیا جا رہا ہے سیاستدان ہی ملک میں پیدا ہونے والے مختلف بحرانوں کے ذمہ دار ہیں اقتدار کے حصول کی خاطر سیاستدان اس حد تک جائیں گے یہ شائد قوم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا انتشار افراتفری کی سیاست سے ملکی معیشت انتہائی کمزور ہو چکی ہے مہنگائی بے قابو، بے روزگاری کا عفریت لوگوں کو بدحال کر رہا ہے مگر سیاستدان اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں اداروں پر الزامات لگائے جا رہے ہیں قانون اور آئین کو پامال کیا جا رہا ہے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا عام سی بات ہے چھوٹے چھوٹے مسائل کو عدالتوں میں لے جایا جا رہا ہے قانون سب کیلئے برابر مگر سیاستدانوں کے کیسز دنوں میں سنے اور ان پر فیصلے ہو رہے ہیں مگر عام کیسز مہینوں بلکہ سالوں تک چلتے رہتے ہیں… آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے عام آدمی کو الجھایا جا رہا ہے، قومی اداروں کے بارے میں بے سروپا باتیں پھیلائی جا رہی ہیں اور یہ سب کچھ ملک دشمن عناصر کی کارستانی ہے جن کو پاکستان کا وجود برداشت نہیں’ سیاست دانوں کو ملک کی بجائے اپنی سیاست اور اقتدار کی فکر ہے جو حب الوطنی نہیں بلکہ مفاد پرستی ہے،، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان ہو چکا لیکن موجودہ سیاسی خلفشار کے باعث الیکشن کا انعقاد ہوتا نظر نہیں آ رہا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے اور آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اہم اجلاس متوقع ہے جسمیں جو فیصلے ہوں گے ان کا اعلان ایک دو روز میں کئے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،، الیکشن ملتوی کئے جانے بارے کہا گیا ہے کہ سیکرٹری خزانہ نے 65 ارب روپے کے فنڈز کے اجراء سے معذرت کی ہے جبکہ تمام حساس اداروں نے ملک کے اندر دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر اور اس کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں سیاسی جتھوں کی ہنگامہ آرائی سے پیداشدہ صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے وزارت دفاع وزارت داخلہ اور کورٹس نے بھی ڈی آر اوز اور آر اوز ضلعی عدالتوں سے دینے کیلئے معذرت کی ہے عدلیہ اور سول اور عسکری اداروں کی طرف سے سکیورٹی اور ضروری سٹاف دینے سے معذورت سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال میں الیکشن کمیشن آف پاکستان تھی بوجوہ فنڈز کی عدم فراہمی’ سکیورٹی کی عدم موجودگی وغیرہ’ پنجاب اور KPK اسمبلیوں کے الیکشن کرانے سے معذرت کرنے کا اعلان کر سکتا ہے، ملک کی ایک سیاسی جماعت جس نے سیاست میں انتشار’ افراتفری گالم گلوچ’ جھوٹ الزامات اور یوٹرن کو فروغ دیا ہے اسکے بعد ملکی سیاست کے رنگ ہی نرالے ہو گئے ہیں عمران خان اور ان کی پارٹی قیادت نے تو ریاست کے قانون کو بھی للکارنا شروع کر دیا ہے جس کی مثالیں زمان پارک لاہور اور اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی ہنگامہ آرائی ہے ان کو نہ ریاست کی پرواہ ہے نہ قانون کا احترام عمران اور ان کے کارکنان یہ ثابت کرنیکی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ طاقتور ہیں اور جب بھی جہاں بھی جو چاہے کر سکتے ہیں ریاست کے اندر ریاست کے قیام کا منظم منصوبہ تشکیل دیا گیا جو نہ صرف قابل مذمت بلکہ قانون نافذ کرنیوالوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ بنتا جا رہا ہے ملک بدترین عدم استحکام سے دوچار ہے اور سب خاموشی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ایسے حالات میں شفاف الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں اس وقت ملک میں سیاسی صورتحال سے ہر فرد پریشان ہے اور اس وقت مقتدر قوتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے’ ملک وقوم اور معیشت کی بہتری کیلئے متفقہ فیصلے ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں