24

عمران خان کو عدالتی ریلیف! (اداریہ)

لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین کی 8 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران کو گرفتاری سے روک دیا جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران کی اسلام آباد کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت سے بھی عمران کے وارنٹ منسوخ کرتے ہوئے فرد جرم مؤخر کر دی گئی عدالتوں سے مسلسل ریلیف ملنے پر تحریک انصاف کا جشن جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو مایوسی ہوئی، عمران کو ملنے والا ریلیف سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے دیگر سیاسی جماعتوں کا موقف یہ ہے کہ عمران خان نے جس طرح ریاستی رٹ کو روندا ہے وہ افسوسناک ہے لاہور کے زمان پارک میں آپریشن اور عمران کو عدالتی حکم پر گرفتاری کیلئے پنجاب پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا PTi ورکرز نے پولیس پر پتھرائو کیا توڑ پھوڑ کی املاک کو نقصان پہنچایا سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سے پنجاب پولیس ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی پولیس کی حوصلہ شکنی ہوئی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے جارحیت اور عسکریت پسند کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں جس سے ملک میں جارحانہ طرز عمل کا کلچر فروغ پائے گا جمہوری اقدار کو نقصان پہنچے گا ہائی کورٹس سے ریلیف ملنے کے علاوہ عمران کے خلاف توشہ خانہ کیس میں پیشی کیلئے عدالت کا مقام ہی تبدیل کر دیا گیا مگر وہاں پر بھی صورتحال قابو میں نہ آ سکی اور PTi ورکرز وہاں پر بھی ہنگامہ آرائی سے باز نہیں آئے اور توڑ پھوڑ کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جوڈیشل کمپلیکس کے میدان جنگ بننے کے بعد ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے کہا کہ سماعت ممکن نہیں” ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران کو اعلیٰ عدلیہ سے ریلیف کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے جس کی وجہ سے اس تاثر نے جنم لیا ہے ان کے مطابق گزشتہ برس 25مئی کو عمران نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وہ ایف نائن پارک میں پڑائو کریں اور جلسہ کریں لیکن عمران ڈی چوک پہنچ گئے حکومت نے توہین عدالت کی درخواست دی جس پر 5 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا مگر اس کی سماعت ابھی تک زیرالتواء ہے آرٹیکل A63 کی تشریح میں بھی انہیں ریلیف ملا پرویز الٰہی کیس میں بھی ان کو ریلیف ملا ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں عمران خان مسلسل چار مرتبہ غیر حاضر ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیئے اور 13 مارچ کو عدالت میں حاضر ہونے کا کہا گیا مگر عمران پھر بھی پیش نہ ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کیس میں بھی عمران کو ریلیف ملا انکی معافی قبول کر لی گئی مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعات نکال کر ریلیف دیا گیا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف توہین آمیز کلمات پر توہین عدالت کیس میں بھی ان کی معافی قبول کی گئی پانامہ کیس میں انہیں صادق اور امین قرار دیا گیا مسلسل ریلیف ملنے کی وجہ سے عمران کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب انہوں نے ایک اور پٹیشن میں ریلیف مانگا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر نہ بلایا جائے بلکہ ویڈیو لنک کی سہولت دی جائے جس پر ملک بھر میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں عمران کو ریلیف ملنے سے ایک منفی پیغام یہ گیا ہے کہ اب دیگر ملزمان بھی عدالت میں حاضری سے بچنے کیلئے عمران کی روش کو اپنائیں گے اس سے عدلیہ کی رٹ متاثر ہو گی اس سے قبل عمران خود یہ کہتے رہے ہیں کہ پہلی قومیں اس لئے تباہ ہو گئیں کہ ان کے دور میں امیر کیلئے الگ قانون تھا اور غریب کیلئے الگ یہ کہنے والے عمران خان اب خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور خصوصی سلوک مانگتے ہیں ایسا کیوں؟ قانون سب کیلئے ایک ہے عمران خان کو جب عدالتوں میں بلایا جاتا ہے تو وہ حاضر نہیں ہوتے اگر پیش ہونا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ سینکڑوں کارکنوں کو لا کر عدالتوں میں بھی افراتفری مچا دیتے ہیں ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے اور عدالتوں کے معزز جج صاحبان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں جوڈیشل کمپلیکس میں بھی ایسا ہی ہوا ہے جج صاحب نے صورتحال دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ واقعی آج سماعت ممکن نہیں ایک سیاسی لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ایسے حالات پیدا کرے کہ عدالتوں میں حاضر ہونے کی بجائے گاڑی میں ہی اپنی حاضری لگوائے ملک اس وقت شدید افراتفری کا شکار ہے ہم پہلے ہی معاشی بحران میں مبتلا ہیں سیاسی عدم استحکام سے مزید مشکلات کا خدشہ ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی کہا ہے کہ تمام سیاستدان ملکر ملک کو بحرانوں سے نکالیں اس سے قبل کہ کوئی بڑا حادثہ ہو جائے صدر مملکت کی بات درست ہے اس حوالے سے ان کو خود بھی مقتدر حلقوں سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ملک وقوم پر آئے اس کڑے وقت سے نکالا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں