78

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں…

فروری کے آغاز کیساتھ ہی دل کی کیفیت عجیب سی ہو جاتی ہے، روح بے چین’ بے چین ہے، آنکھیں اشکبار’ اس ساری بے تابی کے پیچھے 3فروری 2014ء کا غمناک المیہ ہے، کیونکہ 2فروری 2014ء کی رات ساری پریشانی میں گزری’ میری والدہ ماجدہ رشید بی بی کی طبیعت انتہائی زیادہ خراب تھی، میری 2خالہ بھی اپنی بہن کے پاس موجود تھیں، 3فروری کی صبح بوجھل دل کیساتھ دفتر آ گیا کہ اچانک دوپہر کے وقت میری بیوی نے فون کر کے گھر بلا لیا، گھر پہنچا تو میری جنت’ میری ماں ہمیں چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں تھیں، سردی بھی بہت زیادہ تھی، اور دل بھی غمزدہ’ تاہم چھوٹی Dگرائونڈ والے گھر سے عبداﷲ پور اپنے آبائی گھر گیا، انتظامات مکمل کروا کے اور اپنی والدہ کی میت لیکر وہاں آ گیا، رات 10بجے نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد عبداﷲ پور والے قبرستان میں اپنی ماں کو سپردخاک کر کے خالی ہاتھ واپس گھر آ گیا، باپ کا سایہ پہلے سے ہی سر پر نہیں تھا، ساری رات اپنی ماں کی یاد میں گزار دی، اس لئے ماہ فروری کے آغاز کے ساتھ ہی میری ماں کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، اور پھر کسی اپنے کے کندھے پر سر رکھ کر رونے کی بجائے اپنی ماں کی قبر کی پہنچ کر اپنے دل کا بوجھ آنسوئوں کے ذریعے ہلکا کر لیتا ہوں، دنیا میں ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں، ماں کے قدموں میں جنت رکھی گئی ہے، ماں اپنے بچوں کیلئے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں، ماں کی بڑی شان ہے، حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی ماں آپۖ سے ملاقات کے لیے تشریف لائیں تو آپۖ نے فرحت ومحبت سے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا دی اور اپنی رضاعی ماں کو بہت محبت وخلوص سے چادر مبارک پر بٹھایا، جب تک ماں حلیمہ سعدیہ بیٹھیں رہیں، آپۖ ان سے باتوں میں مشغول رہے، ماں اگرچہ رضاعی تھیں، لیکن محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سگے بیٹے کی طرح پیش آ رہے تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ اپنی والدہ محترمہ کو یاد کر کے آپۖ اکثر اشکبار ہو جایا کرتے تھے،ماں کی عظمت کا درس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرح پڑھایا،اس کی مثال نہیں ملتی،اس قیمتی درس کو آپۖکے چاہنے والے کس حد تک یاد رکھتے ہیں؟یہ بات ہرامتی کوسوچنا چاہیے،ماں کی عظمت کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے کہ رب نے اپنے ذکرکیساتھ والدین کی خدمت کرنیکا حکم دیا ہے،جس دل میں ماں کی محبت آباد ہوتی ہے وہ اولاد اس کی خدمت میں دل کا سکون پاتی ہے،اس کی قدرکرتی ہے،اس کی عزت واحترام کرتی ہے اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کواپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھتی ہے،آج اپنی والدہ محترمہ کی دسویں برسی پران کی یاد میں میری آنکھیں اشکبار ہیں،میری عظیم ماں نے میری خوشی کواپنی جان کی طرح عزیز جانا اور زندگی بھرمجھ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا،ماں کی عظمت کا دنیا کا ہرشخص قائل ہے،بلاشبہ!ماں آرام وسکون جان بھی ہے اورعظمت کا نشان بھی،ماں محبت کا جہان اورعطیہ رحمان بھی ہے،بحرمحبت کی گہرائی میں ہرچیز کو سمیٹے ہوئے احساس کوماں کہتے ہیں،اپنی ماں میں مجھے ہمیشہ چاند کی چاندنی،شام کی شفق،سحر کی شبنم،دھنک کے رنگ اورستاروں کی چمک نظرآئی،کائنات کے سب رنگ ماں کی محبت میں چھپے ہوئے ہیں، ماں سے محبت وعقیدت کا اظہار اور ان کے قدموں کا بوسہ لینا مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے اور میری خوش بختی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا شمار بھی ایسے مقدر والوں میں کیا ہے، ماں خالق کائنات کا ایسا تحفہ ہے جو کائنات میں سب سے نرالہ ہے، ماں وہ عظیم ہستی ہے جس نے بڑے بڑے انسانوں کو جنم دیا اور ماں کی عظمت کو احاطہ تحریر میں لانا بہت مشکل ہے، میں نے اس سلسلہ میں دنیا کی نامور ادبی شخصیات کو بھی سر جھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے بعد اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے پایا ہے، بے شک! ماں کی شان ایک نہ ختم ہونے والی عظیم حقیقت ہے، مجھے اپنی ماں سے جو محبت وپیار ملا وہ دم آخر بھی یاد رہے گا اور میری ماں کی دعائیں مجھے کامیابیوں سے ہمکنار کرتی رہیں گی، اﷲ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور کائنات میں بے شمار نعمتیں اس کے لیے بنائیں، انسان پیدائش سے لیکر موت تک ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگا کرو، ماں باپ کی دعائیں حاصل کرنا بھی بڑی خوش نصیبی ہے، والدین ایک سائبان شفقت ہیں جن کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے اولاد خود کو محفوظ سمجھتی ہے، جیسے ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھتا ہے تو اولاد کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے سر پر کتنا بوجھ آ گرا ہے، ماں باپ اﷲ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں، انسان جو کچھ بھی ہے، اپنے والدین کی وجہ سے ہے، اﷲ رب العزت نے والدین کی عظمت کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ لوگ خوش بخت ہیں جو فرمان الٰہی اور ارشاد نبویۖ پر عمل پیرا ہو کر اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے ان کی دعائیں حاصل کریں’ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل میرے والدین کی مغفرت اور ان کی قبروں کو کشادہ فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں