41

وفاق نے پنجاب کی 400 ارب کی ہیلتھ انشورنس روک دی

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی حکومت نے معاشی چیلنجز کے پیش نظر پنجاب کی400ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم کو اس کی موجودہ شکل میں روک دیا ہے جس سے تمام طبقوں سمیت صوبے کی پوری آبادی کو مستفید ہونا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج کا نفاذ کے نام سے یہ منصوبہ سنٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھالیکن قرض دہندگان اور عطیہ دہندگان کی مخالفت پر وزارت منصوبہ بندی بالخصوص سیکریٹری پلاننگ ظفر علی شاہ کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ ظفر علی شاہ نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا کہ وزیراعظم آفس اور اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) میں سیلاب سے متعلق وعدوں پر ہم آہنگی کے لیے ہونے والے چند اجلاسوں کے دوران قرض دہندگان اور عطیہ دہندگان کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید اس بات پر رہی کہ فنڈز ان لوگوں پر خرچ کیے جانے چاہئیں جو حقیقت میں مستحق ہیں اور انہیں بیرونی امداد کی ضرورت ہے نا کہ ان لوگوں پر جو استطاعت رکھتے ہیں لیکن عوامی فنڈز کو ترجیح دیتے ہیں۔عالمی بینک اور دیگر کثیر الجہتی اداروں کے تعاون سے جاری عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے پروگرام کے تحت چاروں صوبوں کو رواں برس 800 ارب روپے وفاقی حکومت کے حوالے کرنے ہوں گے تاکہ مالیاتی خسارے اور بجٹ کے اہداف میں بنیادی توازن برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کو اگاہ گیا کہ پنجاب کے چیف سیکریٹری ان ڈونر اجلاسوں کا حصہ تھے اور انہیں یونیورسل ہیلتھ کوریج اسکیم کے لیے گزشتہ سال اگست میں سی ڈی ڈبلیو پی کو بھیجی گئی سمری واپس لے لینی چاہیے تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے قبل صوبائی حکومت نے منصوبے کی لاگت 333 ارب روپے سے بڑھا کر 399 ارب 60 کروڑ روپے کرنے کی منظوری مانگی تھی جس کی بنیادی وجہ انشورنس پریمیم لاگت اور منصوبے کے انتظامی اخراجات میں اضافہ تھا۔لہذا پنجاب کا خیال ہے کہ وفاق اس منصوبے کو ناکام نہیں بنا سکتا جس کی منظوری گزشتہ حکومت میں سی ڈی ڈبلیو پی اور قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے دی تھی اور سی ڈی ڈبلیو پی کی تازہ منظوری لاگت میں صرف تقریبا 21 فیصد اضافے کی حد تک درکار تھی۔یہ بتایا گیا کہ سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک نے اس سے قبل سالانہ 3 ہزار 580 روپے فی خاندان کے حساب سے 333 ارب روپے کی تخمینہ پریمیم لاگت پر اس منصوبے کو کلیئر کیا تھا، واحد بولی دہندہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے سالانہ 4 ہزار 700 روپے فی خاندان کا کہا تھا اور بعد میں رضاکارانہ طور پر اسے کم کر کے سالانہ 4 ہزار 350 روپے فی خاندان کر دیا تھا جس سے کل تخمینہ لاگت 399 ارب 60 کروڑ روپے ہو گئی۔ان پیرامیٹرز کی صوبائی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی تھی اور صوبائی حکومت کے رواں سال کے بجٹ میں تقریبا 60 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں کوئی غیر ملکی فنڈنگ یا وفاق کی واجب الادا رقم شامل نہیں تھی۔پہلے سے موجود یہ منصوبہ پنجاب کے 36 اضلاع کی 30 فیصد آبادی (تقریبا 85 لاکھ خاندانوں) کا احاطہ کرتا ہے، تاہم پنجاب کی گزشتہ حکومت چاہتی تھی کہ اس کو ان اضلاع کی 100 فیصد آبادی تک بڑھایا جائے جس میں تقریبا 2 کروڑ 90 لاکھ خاندان شامل ہوں اور منصوبے میں شامل صوبے بھر کے 294 ہسپتالوں کے برعکس 400 سے زائد ہسپتالوں کو اس منصوبے میں شامل ہونے کا تصور پیش کیا گیا۔یہ منصوبہ بظاہر 7 اضلاع کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا تھا اور بعد میں اسے 36 اضلاع تک بڑھا دیا گیا تھا۔منصوبہ بندی کمیشن نے نشاندہی کی کہ سوشل ہیلتھ انشورنس نے دراصل صرف مستحق آبادی کے اس منصوبے سے مستفید ہونے کا تصور دیا تھا، تاہم مجوزہ پروجیکٹ میں بظاہر ایسی کسی تفریق کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور کسی فرق کے بغیر مستحق افراد کے لیے ترقیاتی بجٹ سے پریمیم کی ادائیگی کا تصور دیا گیا۔وزارت منصوبہ بندی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایکنک کی ابتدائی منظوری پراجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے کچھ شرائط پر مبنی تھی جس پر صوبائی حکام نے 13 ماہ گزرنے کے بعد بھی توجہ نہیں دی۔حل طلب مسائل کی بنیاد پر سی ڈی ڈبلیو پی نے بالآخر منظوری کو مخر کرنے اور اس کی توسیع کو جائزے کے لیے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا اور منتخب نمائندوں کی جانب سے منصوبے میں کمزوریوں اور تضادات کو دور کرتے ہوئے بہتر فیصلے کے لیے واپس بھیج دیا گیا کیونکہ اس کے لیے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے فریم ورک کی ضرورت ہوگی جو کہ اس وقت موجود نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں