29

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس حکومت مطمئن’PTIبے چین

اسلام آباد(بیوروچیف) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا فیصلہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا، جس طرح ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کے پیش نظر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے قائدین اور مرکزی راہنماوں کو اعتماد میں لینے کیلئے بغیر پیشگی کسی شیڈول یا پروگرام کے وزیراعظم نے یہ اجلاس بلایا تھا۔ اسی طرح پارلیمنٹ ہاوس کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کیلئے تاریخیں تبدیل اور موخر کرنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 تاریخ کو شیڈول تھا۔ آج تمام وقت سیاسی حلقوں میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسی حوالے سے زیربحث رہا۔ اجلاس میں وہ اہم فیصلہ کیا ہوگا جس کیلئے ہنگامی طور پر اجلاس بلایا گیا ہے، گوکہ حکومتی حلقے اس حوالے سے کسی غیر معمولی طرزعمل کا اظہار نہیں کر رہے اور اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے پرسکون دکھائی دیتے ہیں اس حوالے سے وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کسی جماعت پر پابندی لگانے سمیت زیربحث آنے والے دیگر ایشوز پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا بنیادی طور پر یہ ایک مشاورتی اجلاس تھا جس میں صرف مشاورت ہوئی فیصلہ وزیراعظم نے خود کرنا تھا تاہم ہم نے انہیں یقین دھانی کرا دی تھی ہم فیصلوں میں ان کے ساتھ ہیں۔ اسی طرح اجلاس میں موجود بعض دوسرے شرکا سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا بھی بے نیازی سے یہی کہنا تھاکہ مشترکہ اجلاس میں ملک کی صورتحال کے بارے میں تقرریں ہی ہوں گی کسی خاص بات کی توقع نہیں۔ تاہم اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حلقوں میں اس حوالے سے اضطراب محسوس کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں