33

پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ مفاہمت کیلئے کوششیں تیز

اسلام آباد(بیوروچیف)سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ عمران خان ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عمران خان کا ایجنڈا اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے ذاتی رنجش کے بغیر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانا ہے۔ قیصر نے یاد دلایا کہ عمران خان نے ایک عوامی بیان میں ان لوگوں کو بھی معاف کر دیا ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کے گزشتہ سال لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں مبینہ طور پر ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اسد قیصر نے اس تاثر کو سختی سے زائل کردیا کہ عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد کسی کے خلاف ذاتی دشمنی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان صرف قانون کی حکمرانی اور تمام ریاستی اداروں کا اپنی آئینی حدود میں کام چاہتے ہیں۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے ان لوگوں میں شامل ہیں جو پی ٹی آئی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعلی کے پی کے اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک اور فواد چوہدری بھی ان میں شامل ہیں جو عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کو پر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں، جو چیئرمین پی ٹی آئی کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں، جو مبینہ طور پر عمران خان کو موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سازشی تھیوریاں فراہم کر رہے ہیں۔ فیصل واوڈا، جو کبھی عمران خان کے قریبی ساتھی تھے، ایسے لوگوں کو سانپ کہتے ہیں۔ واوڈا نے اگرچہ ان سانپوں کا نام نہیں لیا لیکن اصرار کیا کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران، عمران خان نے انہیں قتل کرنے کے لیے کم از کم پانچ مختلف پلانٹس کے بارے میں بات کی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کے بیشتر رہنماوں کے پاس ان مبینہ پلاٹس کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں لیکن ان کا اصرار ہے کہ کچھ لوگ خان کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر وزیر اعظم کے عہدے سے ان کی برطرفی کے بعد چند ماہ کے اندر عمران خان نے کہا تھا کہ چار افراد نے ان کے قتل کی سازش کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے سازش اور مبینہ سازش کرنے والوں کے بارے میں اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کر لیا ہے اور اگر انہیں قتل کر دیا گیا تو اسے (ویڈیو بیان) عام کر دیا جائے گا۔ تاہم خان نے مبینہ سازشیوں کا نام نہیں لیا۔ وزیر آباد حملے کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور آئی ایس آئی کے ایک سینئر افسر کو اپنی جان پر حملے کی ناکام منصوبہ بندی کے لیے نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں ایک نجی ٹی وی چینل نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ جنرل باجوہ نے ان (عمران) کو مارنے اور ملک میں ایمرجنسی لگانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ حال ہی میں خان نے سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر الزام لگایا کہ وہ ان سے جان چھڑانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی زندگی پر دو ناکام کوششوں کے بعد ان چار افراد، جن کے بارے میں انہوں نے پہلے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کی سازش رچی تھی، نے پھر پی پی پی رہنما کے ساتھ مل کر انہیں ختم کرنے کے لیے ایک پلان سی تیار کیا۔ خان نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں الزام لگایا تھا کہ آصف زرداری نے مجھ پر ایک اور حملہ کرنے کے لییاپنی کرپشن کی رقم طاقتور ریاستی ایجنسی کے سہولت کاروں کی حمایت یافتہ ایک دہشت گرد تنظیم کو دی ہے۔ کچھ دن پہلے عمران خان ایک نئی سازش کے ساتھ سامنے آئے اور دعوی کیا کہ پولیس آپریشن کے ذریعے انہیں قتل کرنے کا ایک اور منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انسپکٹر جنرل پنجاب، آئی جی پولیس اسلام آباد اور ہینڈلرز نے مرتضی بھٹو کے قتل جیسا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پنجاب پولیس ایک یا دو دن میں پی ٹی آئی کے ہجوم میں اپنے آدمیوں کو خفیہ طور پر داخل کرکے زمان پارک میں خان کی رہائش گاہ پر ایک اور آپریشن کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ درانداز چار سے پانچ پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیں گے تاکہ پنجاب پولیس کو جوابی کارروائی کا جواز فراہم کیا جا سکے اور اس کے بعد انہیں اس پرتشدد کارروائی کے دوران حملے میں مار دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں