سائزنگ یونٹس کے ایندھن میں زہریلی اشیاء کا استعمال خوفناک صورتحال اختیار کرگیا

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار) سدھار ،دھاندرہ میں زہریلے دھوئیں کے بادل شہریوں کے سروں پہ منڈلانے لگے ،پیمپرز ،گندے کپڑے ، پلاسٹک و دیگر اشیا بطور ایندھن استعمال ہونے لگا، تفصیلات کے مطابق سدھار ،دھاندرہ اور گردونوا ح میں سائزنگ یونٹس،ڈائینگ,گتہ فیکٹریوں میں پیمپرز ،گندے کپڑے،پلاسٹک بیگز اور دیگر اشیا بوائلر میں بطور ایندھن استعال ہونے اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں شام ہوتے ہی شہریوں کے سروں پر بادلوں کی طرح منڈلانے لگتا ہے جسکی وجہ سے شہری سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہور ہے ہیں محکمہ ماحولیات کے آفسران کی نا اہلی اور غفلت کے باعث بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہور ہا ہے ڈائینگ فیکٹریوں اور سائرزنگ یونٹس کے مالکان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے سوشل میڈیا اور اخبارات میں خبریں لگنے کے باوجود بھی محکمہ ماحولیات ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے آفسران زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کیخلاف کاروائی سے گریزاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں