پاکستان کو ویکسین کی خریداری کے اخراجات خود برداشت کرنے ہونگے

لاہور( بیورو چیف)پاکستان نے مقامی سطح پر ویکسین سازی کے پلانٹ کے قیام کے لیے سعودی عرب اور انڈونیشیا ء کیساتھ تعاون کو مزید تقویت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2031 تک بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے سبسڈائزڈ بوسٹر ویکسین کی فراہمی کے خاتمے سے پیدا ہونیوالے ممکنہ طبی اور مالی بحران سے بچا ئواور ویکسین کی پیداوار میں خودکفیل بننا ہے۔پاکستان اس وقت گاوی، عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور بِل و میلنڈا گیٹس فانڈیشن جیسے عالمی اداروں کے ذریعے ویکسین رعایتی نرخوں پر حاصل کر رہا ہے۔ وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اور انڈونیشیا ء سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فالو اپ میٹنگ کی گئیں تاکہ پاکستان میں ویکسین پروڈکشن پلانٹ قائم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور پاکستان اور اس کے شراکت دار بروقت ویکسین کی دستیابی کے لیے کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت بچوں کو 13 بیماریوں کے خلاف مفت ویکسین فراہم کی جاتی ہے جس میں ہر سال پیدا ہونے والے تقریباً 6.2ملین بچے بھی شامل ہیں۔ملک اس وقت ویکسین کی خریداری کے تقریباً 51فیصد اخراجات خود برداشت کرتا ہے جو سالانہ 4 سے 5 سو ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں