34

45لاکھ سیلاب متاثرین 7ماہ بعد بھی بے یارو مدد گار

اسلام آباد(بیوروچیف)انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی)کی کنٹری ڈائریکٹر شبنم بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آنے والے بدترین سیلاب کے 7ماہ گزر جانے کے بعد بھی ایک اندازے کے مطابق 45لاکھ افراد انتہائی مشکل حالات سے دو چار’ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی)نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگر ان بنیادی ضروریات کے فقدان پر جلد قابو نہ پایا گیا تو متاثرہ علاقوں سمیت پورے پاکستان کو طویل مدتی سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ملک کے جنوب میں ابھی بھی کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں سیلاب سے آنے والا پانی بدستور کھڑا ہے، پاکستان کے ان حصوں میں بھی جہاں لوگ اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا رہے ہیں حالات ہرگز سازگار نہیں ہیں۔ فروری 2023 تک، پاکستان کو مجموعی طور پر سیلاب سے پیداکردہ حالات سے نمٹنے کے لیے 871ملین ڈالر کی اپیل کے عوض صرف 36 فیصد امداد وصول ہو پائی تھی۔ شبنم بلوچ نے مزید کہا، “سیلاب سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر شعبہ میں اس وقت وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے سر و سامانی کے عالم میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں