38

60فیصدپاکستانی موٹی خواتین مہلک بیماریوں کا شکار

اسلام آباد (بیوروچیف)ماہرین کی حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریبا60فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں جن میں شادی شدہ اور نوعمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار گائناکالوجسٹس اور دیگر ماہرین صحت نے کیا۔ماہرین نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق 80 فیصد خواتین کا وزن موٹاپے کے ایشیائی معیار کے اعتبار سے زیادہ ہے۔ پاکستانی خواتین میں موٹاپے کی سب سے بڑی وجہ باقاعدگی سے ورزش نہ کرنا اور غیر صحت مندانہ خوراک کا استعمال ہے۔ماہرین صحت نے پاکستانی خواتین پر زور دیا کہ وہ مختلف مہلک بیماریوں سے بچنے کے لیے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کریں اور وزن میں کمی لائیں۔ خواتین میں موٹاپا کئی سنگین اور مہلک بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے، جن میں ذیابیطس، دل کی بیماری، چھاتی کا کینسر، پی او ایس، حمل کے مسائل سمیت کئی مہلک بیماریاں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موٹاپا انسانی صحت پر برے اثرات مرتب اور عمر کو کم کرتا ہے جبکہ انفرادی، قومی اور عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کے نتیجے میں مالی بوجھ بڑھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موٹاپے کی وبا نے لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں تقریبا 88 فیصد لوگ جسمانی عدم فعالیت اور غیر صحت بخش خوراک کے استعمال کی وجہ سے موٹاپے کا شکار ہیں۔انہوں نے خواتین کے علاج کرنے والے تمام معالجین پر زور دیا کہ وہ خواتین کو صحت مند غذا لینے اور روزانہ ورزش کرنے کا مشورہ دیں اور جسمانی طور پر فٹ رہنے کی کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں