پرائیویٹ کلینیکل لیبارٹریز اور میڈیکل سٹورز پر لوٹ مار کی”حد ”ہوگئی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میںاکثر پرائیویٹ کلینیکل لیبارٹریز اور میڈیکل سٹورز مالکان کی لوٹ مار عروج پر پہنچ گئی، سادہ لوح شہریوں سے مختلف ٹیسٹوں کے من مانے ریٹس اور میڈیکل سٹورز مالکان مہنگے داموں ادویات کی فروخت میں مصروف ہیں’ محکمہ صحت کے عملہ نے مبینہ طور پر نذرانے وصول کر کے چپ سادھ رکھی ہے، شہری حلقوں کی طرف سے ارباب اختیار سے کارروائی کا مطالبہ۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد شہر بھر میں پرائیویٹ کلینیکل لیبارٹریز والوں نے ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کی آشیرباد پر لوٹ مار کی انتہا کر دی۔ ڈاکٹروں کی طرف سے امراض کی تشخیص کیلئے ٹیسٹوں کے اپنے اپنے ریٹ مقررہ کر رکھے ہیں اور بعض ڈاکٹروں کے لیبارٹریز مالکان سے رابطے ہیں وہ مخصوص لیبارٹری کے ٹیسٹ قبول کرتے ہیں دوسری کسی بھی لیبارٹری کے ٹیسٹوں کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ غریب شہری مطلوبہ لیبارٹری میں مہنگے داموں ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں اور کئی ڈاکٹرز نے تو لیبارٹریز والوں سے مبینہ طور پر مک مکا کرتے ہوئے ٹیسٹوں پر کمیشن مقرر کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ لیبارٹریز کے رزلٹ بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ٹیسٹ کی فیس وصول کی جانے لگیں اور مفت ٹیسٹ کروانے کا سلسلہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں محکمہ صحت کی ملی بھگت سے میڈیسن کمپنیوں نے ایک ہی ادویات کے اپنے اپنے ریٹ مقررہ کر رکھے ہیں اور میڈیسن کے منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ادویات کی قیمتوں پر کوئی گرپ نہیں ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کلینیکل لیبارٹریز اور میڈیکل سٹورز کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ڈرگ انسپکٹر نذرانہ وصول کر کے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر کوئی کلینیکل لیبارٹری یا میڈیکل سٹور ان کی مٹھی گرم نہ کرے تو اس کے خلاف کاغذی کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ یا سیل کرنے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور مٹھی گرم ہونے پر ڈی سیل کر کے ماہانہ نذرانہ طے کر لیا جاتا ہے۔ شہری حلقوں نے کمشنر فیصل آباد مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر’ سی ای او ہیلتھ احمد خان اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ کلینیکل لیبارٹریز پر مختلف ٹیسٹوں کے ایک ہی نرخ مقررہ کئے جائیں اور میڈیسن کمپنیوں کو بھی ایک ہی مرض کی میڈیسن کی قیمتوں کا صحیح تعین کیا جائے اور لوٹ مار کرنے والے کلینیکل لیبارٹریز اور میڈیکل سٹورز کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں