آئندہ بجٹ میں الیکٹرونکس اشیا پر ٹیکس شرح کم کی جائے،رانا سکندر اعظم

فیصل آباد (پ ر) فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے وہ تمام ممبران جو چیمبر آف کامرس کے بھی ممبر ہیں وہ اپنی رکنیت کی تجدید کروا لیں’ تجدید رکنیت کیلئے اپنے ڈاکومنٹ اور فیس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد علی ایگزیکٹو ممبر FCCI کے پاس جمع کروادیں تاکہ پہلی فرصت میں آپ کی رکنیت کی تجدید کرائی جا سکے’ ان خیالات کا اظہار فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سے گروپ لیڈر رانا محمد سکندراعظم خاں نے کیا’ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے وہ ممبرجو ابھی تک FCCI کے ممبر نہیں ہیں وہ بھی اپنے ڈاکومنٹ مکمل کر کے ایسوسی ایشن کے پاس جمع کروائیں تاکہ انہیں بھی FCCI کا ممبر بنایا جا سکے’ رانا محمد سکندراعظم نے کہا کہ چیمبر آف کامرس میں ہمارے ممبران کی جتنی زیادہ تعداد ہو گی ہماری قوت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہو گا’ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ایسوسی ایشن کو چیمبر آف کامرس کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا ہے’ آج بھی ہمارے جنرل سیکرٹری محمد علی FCCI کے ایگزیکٹو ممبر ہیں جو ہماری ایسوسی ایشن کا منفرد اعزاز ہے’ انہوں نے تمام ممبران کو مل کر کوئی کاروبار کرنے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ ایسا کاروبار شروع کریں جس کے ہم سب شیئرہولڈر ہوں اور نفع اور نقصان میں بھی برابر کے حصہ دار ہوں’ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری حبیب الرحمن گل’ سینئر وائس چیئرمین رانا فخرحیات’ سابق جنرل سیکرٹری چوہدری عاصم حبیب سمرائ’ فنانس سیکرٹری ملک وقاص احمد نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ بجٹ میں الیکٹرونکس کی اشیاء پر ٹیکس کی شرح کو کم سے کم کیا جائے’ اس وقت الیکٹرونکس کی اشیاء پر 18 سے 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے الیکٹرونکس کی چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں’ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسٹمر وہ غریب آدمی ہے جو یکمشت ادائیگی کر کے گھریلو استعمال کی اشیاء نہیں خرید سکتا مگر جب وہ یہی اشیاء قسطوں پر خریدنا چاہتا ہے تو وہ اور زیادہ مہنگی ملتی ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی ان اشیاء کی خریداری سے اجتناب کر رہا ہے’ اس کا اثر قسطوں کے کاروبار پر بہت زیادہ برا پڑا ہے’ ہماری سیل ناہونے کے برابر رہ گئی ہے’ ہماری وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیرخزانہ اورنگزیب سے اپیل ہے کہ آئندہ بجٹ میں الیکٹرونکس کی اشیاء پر ٹیکس کی شرح کم سے کم کریں تاکہ ہمارا کاروبار بھی چلتا رہے’ مقررین نے کہا کہ ڈالر’ پٹرولیم مصنوعات’ گیس اور بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے عام اور متوسط طبقہ سخت پریشان ہے’ خدارا عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کیلئے ڈالر’ پٹرولیم مصنوعات’ گیس اور بجلی مہنگی کے ریٹ کم کئے جائیں تاکہ عا م آدمی سکھ کا سانس لے سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں