آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں1500ارب کی بچت

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 27آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو مستقبل کی ادائیگیوں میں تقریبا ایک ہزار 500ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جب کہ ایک پاور پروڈیوسر کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے روبرو وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی اور وفاقی سیکریٹری محمد فخر عالم عرفان پر مشتمل پاور ڈویژن کی ٹیم نے پریزنٹیشن دی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش کی جانے والی ایک سلائیڈ میں بتایا گیا کہ مذکورہ بچت کنٹریکٹ کی مدت کے دوران معاہدوں اور ٹیرف میں تبدیلی کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جائے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 5آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے خاتمے سے 411ارب روپے، 8آئی پی پیز کے ساتھ ٹیرف معاہدوں پر نظر ثانی کے ذریعے 238ارب روپے اور 14تھرمل آئی پی پیز کے ساتھ ٹیرف میں ترمیم کے ذریعے 922ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مزید بچت کے لیے پبلک سیکٹر کے 45پاور پلانٹس کے ساتھ بات چیت جاری ہے، وزیر توانائی اویس لغاری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ حکومت نہ تو شمسی نظام کی حوصلہ شکنی کرے گی اور نہ ہی کوئی ٹیکس عائد کرے گی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے کہا کہ حکومت 5 آئی پی پیز کو 70 سے 80 ارب روپے ادا کر رہی ہے، جن کے کنٹریکٹ ختم ہو چکے ہیں، جن میں سے 30 ارب روپے صرف حب پاور کمپنی کو دیے گئے ہیں۔انہوں نے اس خیال کو مسترد کیا کہ آئی پی پیز کو دبا کی حکمت عملی کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کی مد میں تقریبا 300 ارب روپے کے واجبات مذاکراتی عمل کے ذریعے معاف کیے جا رہے ہیں، جن میں 100 ارب روپے پہلے ہی معاف کیے جا چکے ہیں۔سینیٹر شبلی فراز کے اس سوال کے جواب میں کہ فرانزک آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا، کیوں کہ ماضی میں آئی پی پیز کو کھربوں روپے ادا کیے گئے تھے، محمد علی نے کہا کہ پاکستان کے پاس 50 سے 60 پلانٹس کا فرانزک آڈٹ کرنے کی گنجائش نہیں، اور اس کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے 2020 میں اس طرح کے آڈٹ کے لیے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے مانگے تھے، لیکن ایک روپیہ بھی نہیں مل سکا، تاہم اب آئی پی پی کی جانب سے ٹیرف پر نظر ثانی کے لیے بات چیت پر رضامندی ظاہر نہ کرنے کا آڈٹ کیا جائے گا، مذاکرات کی میز پر نہ آنے والے آئی پی پی کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آئی پی پیز نے ایندھن اور کارکردگی کے معیار میں گمراہ کرکے حکومت سے غیر ضروری ادائیگیاں حاصل کی ہیں، لیکن ٹھوس شواہد کے بغیر اوور انوائسنگ کے الزامات ثابت کرنا بہت مشکل ہے، اور اس طرح کی کوشش ناکام ہوسکتی ہے اور اسپانسرز بین الاقوامی ثالثی عدالت جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کر رہی ہے، کیوں کہ اس نے 20 سال سے ان پلانٹس کی بیلنس شیٹ کا جائزہ لیا ہے۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی پی پیز پر محمد علی رپورٹ پر عمل درآمد نہیں کیا، موجودہ حکومت پہلے ہی بغیر کسی صوابدید یا حق کے آئی پی پیز سے ایک کھرب 400 ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے آئی پی پیز پر ٹاسک فورس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ ان بچتوں سے صارفین کو کب فائدہ ہوگا؟ محمد علی نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت اور معاہدوں کے نفاذ کے ساتھ یہ آہستہ آہستہ صارفین تک فائدہ پہنچے گا۔ جون 2024 سے اب تک بجلی کے نرخوں میں 4 روپے 11 پیسے فی یونٹ کمی آ چکی ہے، اور ٹیرف میں مزید نمایاں کمی متوقع ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے پاور پلانٹس کے لیے 17 فیصد ریٹرن مقرر کیا ہے، جب کہ گزشتہ دہائیوں میں یہ شرح 35 فیصد تھی۔معاون خصوصی محمد علی نے کہا کہ حکومت نے بجلی گھروں سے 35 ارب روپے وصول کیے، جو وفاقی حکومت نے ایندھن کے عوض ادا کیے تھے۔مزید برآں، حکومت نے 45 قابل تجدید پلانٹس پر مذاکرات کا آغاز کیا ہے، تاکہ پائیدار نرخوں پر مذکورہ پلانٹس پر منافع کے مارجن کو کم کیا جاسکے۔پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت گردشی قرضوں پر سود کو ترک کرنے اور آئندہ 5 سے 7 سال میں اسٹاک گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں