64

آئی پی پیز کیخلاف حکومت اور اپوزیشن یک زبان (اداریہ)

قومی اسمبلی میں آئی پی پیز کیخلاف حکومتی واپوزیشن جماعتیں یک زبان ہو گئیں اور نجی بجلی گھروں کے جائزے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی رکن اسمبلی مہرین بھٹو نے کہا کہ آئی پی پیز کے چارجز کیوجہ سے عوام شدید متاثر ہیں رکن اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھایا سید طارق حسن نے ایران کے ساتھ گیس منصوبے کی عدم تکمیل پر کہا کہ کچھ دن پہلے ایران نے پاکستان کو حتمی نوٹس دیا ہے ایران کے ساتھ کام تک پہنچے تو پائپ لائن منصوبے میں 18بلین کی پینلٹی کہاں سے بھریں گے رکن اسمبلی علی محمد خان نے آئی پی پیز کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز نے عوام کا خون نچوڑ لیا ہے آئی پی پیز دلدل ہے جس میں پاکستان ڈوب چکا ہے اس وقت آدھی سے زیادہ بجلی بن نہیں رہی اس کے پیسے ہم دے رہے ہیں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے حکومتی رکن اسمبلی مصدق ملک نے تجویز دی کہ تمام پارٹنر کو اکٹھا بٹھا کر طریقہ کار طے کر لیں راجہ پرویز اشرف نے بھی کہا کہ پورے ہائوس کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور آئی پی پیز پر بحث ہو یہ بہت گھمبیر مسئلہ ہے ابہام دور ہونے چاہئیں حنیف عباسی نے کہا آئی پی پیز کا مسئلہ کتنا مشکل ہے جس نے پورے ملک کو گھر میں لیا ہوا ہے سنا ہے ایک بند پلانٹ ہے وہ کروڑوں اربوں روپے لے رہا ہے یہ کون لوگ ہیں جو اربوں میں پیسے لے رہے ہیں ان لوگوں کو بلائیں ان سے پوچھیں اگر نہیں مانتے تو کارروائی کریں قومی اسمبلی میں آئی پی پیز کیخلاف حکومت اور اپوزیشن کا یک زبان ہونا خوش آئند ہے واقعی آئی پی پیز کمپنیوں نے تو ملک میں اندھیر مچا رکھا ہے سسٹم میں بجلی شامل کرنے میں ناکام مگر کروڑوں بلکہ اربوں روپے وصول کرنے میں سب سے آگے ہیں یہ کمپنیاں کس کی ہیں اس بارے واضح طور پر تو علم نہیں ہو سکا مگر شنید ہے کہ ان کمپنیوں کے مالکان ملک کے انتہائی بااثر افراد ہیں جنہوں نے بعض عالمی اداروں سے گارنٹی حاصل کر رکھی ہے جبکہ ان اداروں کی یہ بھی شرط ہے کہ ان کو ڈالروں کی شکل میں رقوم ادا کی جائیں گی لہٰذا جب ملک میں پاکستان کی کرنسی کی ڈی ویلیو ایشن ہوئی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ان کمپنیوں کی تو چاندی ہو گئی آئی پی پیز کمپنیوں نے خوب رقوم سمیٹیں جبکہ ان کمپنیوں کیخلاف قومی اسمبلی میں بازگشت سنائی دے رہی ہے حکومت کہہ رہی ہے کہ ان کمپنیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا البتہ ان سے بات کر کے نئے معاہدے پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے بعد جب ملک میں عوام سڑکوں پر آئی اور آئی پی پیز کمپنیوں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا تو حکومتی ترجمانوں نے بھی عوام کو طفل تسلیاں دینے کی ذمہ داریاں نبھانا شروع کر دیں اور عوام کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے عارضی طور پر اقدامات اٹھائے گئے مگر ضروری بات یہ ہے کہ اس کا مستقل بندوبست کیا جائے آئی پی پیز کمپنیاں کس کی ملکیت ہیں اور ان کے ساتھ مہنگے معاہدے کیوں کئے گئے اس کا کھوج لگانا ضروری ہے اب جبکہ بات ایوان میں پہنچ چکی ہے تو اپوزیشن اور حکومت کو اس کو کسی نتیجے پر پہنچانے کیلئے پوری صلاحیتیں صرف کرنا ہوں گی اگر اس میں ناکامی ہوئی تو پھر یہ مسئلہ کوئی بھی حکومت حل نہیں کر سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں