آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر دنیا خاموش’برطانیہ،فرانس ،جاپان،آسٹریلیا کا ٹرمپ کو انکار

تہران، واشنگٹن، مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اسرائیل کے ایران اور لبنان پر حملے 16ویں روز میں داخل ہو گئے، ایران نے بھی جواب میں 54ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے سجیل میزائل برسا دیئے، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین سمیت دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی تاہم کسی ملک نے ابھی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کا دعویٰ رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے کسی سے مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کیا، ایران سعودی عرب پر حملوں میں ملوث نہیں، امریکا کے لوکس ڈرون ایرانی ڈرون شاہد کی نقل ہیں، وہی عرب ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں، امریکا نے ایرانی دعوے کی تردید کی ہے۔مشرق وسطی کی جنگ میں سولہ روز کے دوران 1444ایرانی اور 850لبنانی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں بچے اور عورتیں شامل ہیں، ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ ایران میں 36ہزار رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔سعودی فورسز نے آج درجنوں ڈرونز مارگرائے، سعودی وزارت دفاع کے مطابق صبح سے اب تک ڈرون حملوں کی تین لہروں کا سامنا کیا۔سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پہلی لہر میں پانچ،دوسری لہرمیں چھ اور تیسری لہر میں تئیس ڈرونز کو فضا میں تباہ کیا گیا،سعودی فضائی حدود میں آج تباہ کیے گئے ڈرونز کی تعداد ساٹھ ہوگئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستبقل بہت برا ہوگا، ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق 7ممالک سے بات چیت کررہے ہیں، ان سے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔برطانوی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر سے طے شدہ ملاقات تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ کمپلیکس کو راکٹ اور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب واقع ایک لاجسٹک سپورٹ کیمپ پر ڈرون حملہ کیا گیا، اسی علاقے کو 5راکٹوں سے بھی نشانہ بنایا گیا۔حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے ضلع جزین میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 5افراد جاں بحق جبکہ 6زخمی ہو گئے۔ایجنسی نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع جزین کے علاقے قطرانی میں کیا گیا، جہاں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ متعدد افراد کو مختلف نوعیت کے زخم آئے۔رپورٹ کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نیکہاتھا ایرانی بحریہ کو تباہ کردیا، ٹرمپ ہمت کریں خلیج میں امریکی نیوی بھیجیں۔ترجمان کے مطابق ابھی 10 سال پہلے تیارکیے گئے میزائل استعمال کررہے ہیں، جون 2025 کے بعد تیار میزائل استعمال میں نہیں لائے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایپسٹین ٹیم کی باقیات نے نائن الیون جیسا واقعہ کرنے اور الزام ایران پر لگانے کی سازش تیار کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے علی لاریجانی نے لکھا کہ ایران بنیادی طور پر ایسے دہشت گرد منصوبوں کا مخالف ہے، ایران کی جنگ امریکی عوام کے ساتھ نہیں ہے۔دبئی میں حکام نے ڈرون سے متعلقہ واقعہ کے بعد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق ڈرون سے متعلقہ واقعے کے بعد لگنے والی آگ پر ردعمل دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک فیول ٹینک متاثر ہوا ہے، مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں، دبئی ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے، 2025میں اس کے ذریعے نو کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔اطالوی چیف آف ڈیفنس جنرل لوسیانو نے ایک بیان میں کہا کہ آج صبح علی السالم بیس کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، حملے میں اطالوی ٹاسک فورس ایئر کا ریموٹ کنٹرول طیارہ تباہ ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں تمام اہلکار محفوظ ہیں اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا، حالیہ دنوں میں علاقے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ٹی ایف اے کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔امریکا کے معاشی اتحادی جاپان نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف نے کہا کہ خطے میں بہت بڑی دہلیز پار ہوئی تبھی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکیں گے۔آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کردیا، آسٹریلوی وزیر نے کہاکہ آسٹریلیا مشرق وسطی کے مشن میں حصہ نہیں لے رہا۔چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش ہوگیا، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے مثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے ہم بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرون بھیج دیں۔برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے بھی آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے صاف انکار کیا، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امریکی صدر کو نہ کر دی۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطی کی صورت حال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں۔واضح رہے کہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔دریں اثناء ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے اتحادی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کرتے تو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو مستقبل میں بہت خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون نہیں کرتے تو نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقات کو مخر بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بیجنگ پر دبائو ڈال رہے ہیں تاکہ چین اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین خلیج فارس سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ امریکا کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو ممالک اس آبی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں کہ وہاں کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بالکل مناسب ہے کہ وہ لوگ جو اس آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ بھی برا نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس معاملے پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آتا یا منفی جواب دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹو کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد یہ گزرگاہ عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمت جو پہلے تقریباً 65ڈالر فی بیرل تھی، وہ بڑھ کر 100ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں