آبی ذخائر حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سینئرسیاستدان اور سابق وفاقی پار لیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ دیگر منصوبوں کی نسبت آئندہ نسل کی بہتری کیلئے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے آبی ذخائر حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ لاہور سے بہاولپور تک موٹروے کی تعمیر کے لئے ساڑھے چار سو ارب مختص کرنے کی بجائے سب سے پہلے ہمیں بارشی اور سیلابی پانی سٹور کرنے کیلئے جگہ جگہ ذخائر بنانے چاہئے تھے تاکہ پانی ضائع نہ ہو ڈیموں کی تعمیر کی جانب تو حکومت کی کوئی توجہ نہیں مگر ایسی صورت میں کم از کم سمندر میں پانی کو ضائع کرنے کی بجائے اگر ہم آبی ذخائر بنا دیتے ہیں تو انسان ، چرند، پرند سمیت ہماری ملکی زراعت مستفید ہو گی کیونکہ انسانی جان، زمین، گندم، چاول، کپاس، سبزیوں کیلئے پانی بنیادی ضرورت ہے جس کو مختلف ذرائع سے محفوظ کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے قبل ازیں بلوچستان ، سندھ اور پنجاب میں جو تباہی ہوئی اس کے تناظر میں حکومت کو موٹرویز جیسے پراجیکٹس کی بجائے فالتو پانی سٹور کرنے کے مختلف منصوبوں کیلئے لائحہ عمل طے کرنا ہو گا رانا زاہد توصیف نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ پانی بہت گہرائی میںجا رہا ہے خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں پانی کی قلت ہمارے لئے سنگین مسئلہ بن جائے چنانچہ ذاتی مفادات کی بجائے قومی بہہتری حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے المیہ یہ ہے کہ ہر دور میں سیاستدان موٹرویز جیسے منصوبوں پر اربوں روپے اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ عوام کو موٹروے نظر آتی ہے مگر پانی کے ذخائر نظر نہیں آئیں گے اس لئے حکمرانوں کی اس جانب کوئی دل چسپی نہیں مگر محض ملک و قوم اور ملک کے بہتر مستقبل کیلئے پانی بچانے کیلئے منصوبہ بندی لازم اور سنگین مسئلہ ہے جس کے لئے آبی ، زرعی ماہرین اور معیشت دانوں کو حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروانی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں