آن لائن فراڈ کے مرکزی ملزم ملک تحسین اعوان کا مزید3روزہ جسمانی ریمانڈ

فیصل آباد (سٹاف رپورر) سینئر سول جج محمد اشفاق ملک نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے آن لائن فراڈ کے مرکزی ملزم سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیکر سائبر کرائم کے حوالے کر دیا۔ 18غیر ملکی ملزمان کی ضمانت منظور کر کے دو دو لاکھ کے مچلکوں پر رہائی کرنے کا حکم دے دیا جبکہ دیگر کو دوبارہ 11اگست کو عدالت پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے اربوں روپے کے مالیاتی آن لائن فراڈ کیس میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 60ملکی وغیر ملکی مرد وخواتین کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ سائبر کرائم کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ مرکزی ملزم ملک تحسین اعوان نے بعض ڈیوائسز کی نشاندہی کی ہے۔ جسکی برآمدگی کرنے کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تو عدالت نے تفتیشی آفیسر سے پوچھا کہ کیا ملزم کو تمام کیسوں میں شامل تفتیش کر لیا ہے تو تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ ملزم کو تمام کیسوں میں شامل تفتیش کر لیا گیا ہے جس پر عدالت نے مزید 3روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے دوبارہ 31جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم سنایا۔ جبکہ دیگر 60ملکی وغیر ملکی ملزمان کو دوبارہ 11اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں 18غیر ملکیوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دو دو لاکھ مچلکے جمع کروانے پر رہائی کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ سائبر کرائم اور حساس ادارے نے 8جولائی کو بلوچنی کے علاقہ میں سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کے ڈیرہ پر چھاپہ مار کر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے آن لائن فراڈ نیٹ ورک پکڑا اور وہاں سے 149ملکی وغیر ملکی مرد وخواتین کو حراست میں لیکر ان کے خلاف 7مقدمات درج کئے۔ تاہم ملک تحسین اعوان نے سات مقدمات میں عبوری ضمانت کروائی تو سائبر کرائم نے ایک آٹھواں مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم تحسین اعوان کو گرفتار کر لیا۔ جس میں مرکزی ملزم نے چائنا کمپنی کیساتھ کرایہ داری ایگریمنٹ اور بعض غیر ملکیوں کے کوائف بھی غلط اندراج کروائے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں