76

آپریشن عزم استحکام کی سیاسی مخالفت نہ کی جائے (اداریہ)

اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جب سے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی ہے اس وقت سے اپوزیشن نے واویلا مچایا ہوا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا، اپیکس کمیٹی کے بعد وفاقی کابینہ نے بھی آپریشن کی منظوری دے دی ہے، پاکستان برسوں سے دہشت گردوں سے لڑتا آیا ہے ان دنوں بھی یہ سلسلہ جاری ہے پاکستان کا ہر فرد یہ جانتا ہے کہ ملک کے امن کو تباہ کرنے کیلئے پاکستان دشمن طاقتیں وسائل کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں اندرونی طور پر بھٹکے ہوئے اور بیرونی دشمن ملکر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے متحرک ہیں، پاکستان کے دشمنوں نے ہمارے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے یہ عدم استحکام سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے یہ سیاسی عدم استحکام سیاسی جماعتوں کی ناقص پالیسیوں اور کمزور طرز حکومت سمیت ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کی وجہ سے ہے سیاسی قیادت ہمیشہ ذاتی مفادات کا ہی دفاع کرتی چلی آ رہی ہے، موجودہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت ملک میں قیام امن اور دہشت گردوں کے قلع قمع کیلئے ایک پیج پر ہے مگر اپوزیشن جماعتوں کی آپریشن عزم استحکام کی سیاسی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے اصولی طور پر تو اپوزیشن کو حکومت اور سکیورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دینے کا عزم کرنا چاہیے، جب سے چین کے اشتراک سے پاکستان مین اقتصادی راہداری منصوبہ وجود میں آیا ہے تب سے ہی اس منصوبہ کی پاکستان دشمنوں نے شروع کر دی تھی اس مخالفت میں بیرونی مخالفت کے ساتھ ساتھ بعض ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو ملک کی ترقی کے خوامخواہ دشمن بنے ہوئے ہیں بلوچستان میں بھارت کی آشیرباد سے کچھ تنظیمیں بھی سی پیک منصوبوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ چینی انجینئرز کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں جو افسوسناک ہے، گیم چینجر منصوبے کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی ہے جس کے خاتمہ کیلئے پاکستان کو بڑی قربانیاں دینا پڑی ہیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے آپریشن عزم استحکام پر اپوزیشن کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ اگر دہشت گردوں کا راستہ نہ روکا گیا تو وہ ہمارے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتے رہیں گے سیاسی اور عسکری قیادت کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ بالکل رعایت نہیں کرنی چاہیے پائیدار امن کیلئے دہشت گردوں کو چُن چُن کر ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ آپریشن عزم استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت بلوچستان میں ہے، حقائق کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بہت واقعات ہو چکے ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی بی کے دہشت گرد افراتفری پھیلا رہے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے، گزشتہ آپریشنز سے دہشت گردوں کی منظم کارروائیوں اور صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے عزم استحکام آپریشن پائیدار امن کیلئے سکیورٹی اداروں کے تعاون کا قومی وژن ہے آپریشن کا مقصد نظرثانی شدہ ایکشن پلان کے نفاذ میں نئی روح پیدا کرنا ہے عزم استحکام کا مقصد انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے اس کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات کی ناپاک موجودگی اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ختم کرنا ہے، سیاسی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ متحد ہو کر ملکی مسائل کے حل کی طرف بڑھیں اور آپریشن عزم استحکام کی سیاسی مخالفت کے بجائے سیاسی استحکام پر بھی حکومت کے تعاون کریں اسی میں ملک وقوم کی بھلائی کا راز مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں