33

آہ آج شعیب بھی قبر میں اتر گیا…

شب سیاہ میں گم ہو گئی ہے راہِ حیات ۔۔۔ قدم سنبھل کے اٹھا بہت اندھیرا ہے ۔۔۔ شعیب کو مرحوم کیسے کہوں ۔۔۔مرحوم کہتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ہم خود محروم ہو گئے ہیں ۔۔۔جانے والے کی محبت سے شفقت سے مروت سے ۔۔۔جانے والے روکے بھی نہیں رکتے ۔۔۔انہیں کون سمجھائے کہ تمہارے جانے سے دنیا خالی ہو جاتی ہے ۔۔ہاں دل کی دنیا خالی ہو جاتی ہے ۔۔۔ اداس کر کے ہمیں چل دیا کہاں وہ شخص ۔۔۔ میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ خاک کو خاک اوڑھنے کی اتنی جلدی کیوں ہے ۔۔۔اور منوں مٹی تلے کیا تماشہ جاری ہے کہ سب تماشائی سودائی ہوئے جا رہے ہیں ۔۔۔ شعیب چلا گیا ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد بھی دائم آباد رہے گی دنیا ۔۔۔ لیکن ہمارے دل کی دنیا کہاں آباد رہے گی ۔۔۔ تیڈی یاد ہے زینت پلکیں دی ۔۔۔ تیکوں یاد کریناں رو پونداں ۔۔۔ شعیب بھائیوں جیسا شفیق ہی نہیں ۔۔۔ سچ مچ میں بڑا بھائی ہی تھا ۔۔۔جب میں اور زبیر دونوں گورنمنٹ کالج لاہور گئے تو ہم عموما اکٹھے گاں سے لاہور جاتے ۔۔میں زبیر کے ہاں چلا جاتا کہ زبیر کو وہاں سے لے لوں ۔۔۔زبیر کا گھر میرا اپنا گھر تھا ۔۔۔ شعیب زبیر سے بڑا تھا ۔۔زبیر کی امی مجھے بھی بیٹوں کی طرح پیار کرتیں ۔۔۔زبیر کے والد مجھے انتہائی عزیز رکھتے ۔۔۔زبیر کی دونوں بڑی باجیاں میری بھی باجیاں تھیں اور شعیب ہم دونوں کا بڑا بھائی تھا ۔۔۔آصف چھوٹا تھا ہم سب کا پیارا ۔۔۔ اور آج تک ہمارا چھوٹا ہے اور بے حد پیارا بھی ۔۔۔زبیر بطور کمیشنڈ آفیسر آرمی میں چلا گیا اور آصف میرے پیچھے پیچھے سول سروس میں آگیا ۔۔۔لیکن گئے دنوں کی محبت مروت قربت ہمارے بیچ کبھی کم نہ ہوئی ۔۔۔میرے سر پہ سائبان پہلے ہی نہیں تھا نہ ماں نہ باپ ۔۔۔لیکن زبیر کی والدہ پھر والد اور بڑی باجی کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد مجھے بھی ایسے لگتا ۔۔۔ کہ میرے ماں باپ ایک بار پھر دنیا سے اٹھ گئے ہیں ۔۔۔اور اب شعیب اتنی جلدی میں چلا گیا ہے کہ ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا ۔۔۔میں زبیر اور آصف سے کہہ رہا تھا کہ یار میں SPEECHLESS ہوں ۔۔۔زبان گنگ ہے ۔۔حرف روٹھ گئے ہیں ۔۔۔شعیب کے دنیا سے جانے پہ کیا کہوں لفظ سجھائی نہیں دیتے ۔۔۔شعیب ہم سب کے لئے کیا تھا ۔۔بس ہمارے سوا کوئی اسے محسوس نہیں کر سکتا ۔۔۔موت ایک بار مارتی ہے زندگی بار بار مارتی ہے ۔۔۔زندگی کا کوئی علاج نہیں ۔۔۔ موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ۔۔۔ سوچتا تھا موت کا بھی علاج ہو شائد ۔۔۔ لیکن اب یہ جانا کہ موت کا بھی کوئی علاج نہیں ۔۔۔ شعیب استقامت عزیمت کا پہاڑ تھا ۔۔۔ عرصہ دراز سے انتہائی صبر سے بھابھی کی طویل بیماری سے نبرد آزما تھا۔۔۔ اور اپنی گرتی صحت کا بھی مقابلہ کر رہا تھا ۔۔۔چہرے پہ ہمہ وقت نرمی مسکراہٹ چھائی رہتی تھی ۔۔دل کے درد کبھی زباں پہ نہیں آنے دئیے ۔۔گائوں کے ہائی سکول میں سالوں بطور استاد خدمات انجام دینے کے بعد پری میچور ریٹائرمنٹ لے لی ۔۔۔نماز روزے کی پابندی کبھی ترک نہیں کی ۔۔شعیب تو چلتا پھرتا چلا گیا ۔۔۔نہ صاحبِ فراش ہوا ۔۔نہ کسی طویل مہلک بیماری کا سامنا رہا ۔۔۔بس دل کا عارضہ تھا ۔۔۔ دل کی رفو گری ہو چکی تھی اور جیون کٹ رہا تھا ۔۔۔کہ دو دن قبل موٹر سائیکل پھسلنے سے زمیں پہ گرا ۔۔۔ سر پہ گرنے سے چوٹ آئی یا برین ہیمرج سے چکرا کے گر گیا ۔۔۔ اس بات کا تعین نہ ہو سکا ۔۔۔لیکن یہ بات طے ہو گئی کہ دماغ میں خون جمع تھا ۔۔۔ اور بے حد جمع تھا جسے بہنے کی راہ نہیں ملی ۔۔۔دماغ نے کام چھوڑا تو وینٹی لیٹر بھی ساتھ چھوڑ گیا ۔۔۔ اور کل شام سانسوں کی الجھی ڈور الجھتے الجھتے بالآ خر ٹوٹ گئی ۔۔۔ شعیب کیا گیا سب کو سو گوار کر گیا ۔۔۔ کیا چھوٹا کیا بڑا سب مغموم تھے ۔۔۔آج موسم ابر آلود تھا بارش بھی تھی جیسے آسماں بھی شعیب کے جانے پہ اشکبار ہو ۔۔۔زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ۔۔ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے ۔۔۔بچھڑنے والوں کو الوداع کہتے ہوئے ان کا چہرہ دیکھنے کی مجھ میں تاب نہیں ۔۔۔کوشش کے باوجود شعیب کا چہرہ نہ دیکھ پایا۔۔۔ کہ مجھے پژ مردگی بھاتی نہیں ۔۔۔مجھے یقین تھا کہ شعیب کے چہرے پہ اس کی روائیتی مسکراہٹ اور تازگی ہو گی ۔۔۔لیکن میں اپنے تصور کو گڈ مڈ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔میں اپنی چشمِ تصور میں وہی مسکراتا زندہ چہرہ محفوظ رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔لوگ شکلیں بھول جاتے ہیں کب تک یاد تو کوئی رہتا ہے ۔۔۔لیکن شعیب کو ہم کبھی نہیں بھول پائیں گے ۔۔اس کے چہرے کی شگفتگی تازگی ہماری یادوں میں یو نہی بسی رہی گی ۔۔شاعر کا ایک شعر میں نے موقع بہ موقع کئی بار دہرایا ہے ۔۔۔ لیکن آج تک اس کا صیحیح مفہوم میں سمجھ نہ پایا تھا ۔۔۔آج اس شعر نے مجھے نمناک کر دیا ۔۔۔مجھے لگا کہ یہ شعر صرف کسی نے شعیب کے لئے کہا ہے خاص شعیب کے لئے ۔۔۔بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ۔۔۔اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں