ابرار احمد کے ایکشن پرٹرولنگ پڑوسی ملک سے عجیب سی آواز سننے میں آئی

لاہور (سپورٹس نیوز) آئی سی سی چیپمئنز ٹرافی کے انتہائی اہم میچ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی سے ناصرف پاکستانی شائقین کرکٹ نالاں ہیں بلکہ شعیب اختر جیسے سابق کرکٹرز اس شکست کو نوشتہ دیوار سمجھتے ہیں۔شعیب اختر نے میچ کے اختتام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس پر کوئی حیرت نہیں ہے، انڈیا نے اپنی شہرت کے مطابق میچ میں اپنی برتری ثابت کی جبکہ وراٹ کوہلی نے ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کتنے اہم ہیں اور ہدف کا تعاقب کرنے میں ان کا ثانی نہیں ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین اس بات پر بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ اس سے قبل انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے بیچ اس سے زیادہ یکطرفہ میچ نہیں دیکھا جس میں نہ تو کوئی موڑ آیا اور نہ ہی امید دلانے والا کوئی لمحہ۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے 1980 کی دہائی کی کرکٹ کھیلی، 300 میں سے تقریبا 150 گیندیں ڈاٹ کھیلیں، رن آوٹ ہوئے اور کچز ڈراپ کیے۔ایسے میں ابرار احمد نے اپنے مورال کو بلند رکھا اور انڈین بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ جب انھوں نے اِن فارم بیٹر شبھمن گل کو بولڈ کیا تو کمنٹیٹرز نے ان کی اس گیند کو بہترین گیند قرار دیا۔اس کے بعد ابرار احمد نے اپنی آنکھوں کے اشارے سے شبھمن گل کو جس طرح سے میدان سے جانے کے لیے کہا، ان کی یہ ادا بہت سے ناظرین کو پسند نہیں آئی اور انڈیا میں انھیں اس لیے ٹرولنگ کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا پر جہاں کوہلی، ان کی 51ویں سنچری، ان کے سب سے تیز 14000 رنز کی تعریف ہو رہی ہے وہیں انھیں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ملنساری کا جذبہ دکھانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ابرار احمد کو نہ صرف انڈیا میں ٹرول کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں