اتائی ڈاکٹر کے مبینہ غلط انجکشن سے دوشیزہ کی ہلاکت کا معاملہ

جڑانوالہ(نامہ نگار) جڑانوالہ اتائی ڈاکٹر کے مبینہ غلط انجکشن سے دوشیزہ کی ہلاکت کا معاملہ۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو کیس ریفر نہ کرنے کیلئے مبینہ ٹائوٹ اور دیہاڑی بازوں کی منتیں ترلے اور سفارشیں بھی کام نہ آئیں ۔ صو با ئی وزیر صحت،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کی ہدایات پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اتائی ڈاکٹر کیخلا ف مزید کارروائی کیلئے کیسں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھجیوا دیا۔تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ بچیانہ کے نواحی چک نمبر 7 گ ب میں اتائی ڈاکٹر مٹھو کے مبینہ غلط انجکشن لگانے پر دوشیزہ جاں بحق ہو گئی تھی عطائیت کے ہاتھوں دوشیزہ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب،سی ای او ہیلتھ فیصل آباد نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کئے جس پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہزاد رانا نے ڈرگ انسپکٹر اور ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے اتائی ڈاکٹر مٹھو کے کلینک کو سیل کر دیا تھا اور رپورٹ حکام بالا کو ارسال کر دی تھی اتائی ڈاکٹر مٹھو کا کلینک سیل ہونے پر ٹاوٹوں اور دیہاڑی بازوں نے مبینہ طور پر منتیں ترلے اور سفارشیں شروع کر دی کہ عطائیت کے ہاتھوں دوشیزہ کی ہلاکت کا کیسز پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ریفر نہ کیا جائے لیکن صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نادیہ ثاقب،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر شہباز کے نوٹس پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہزاد رانا نے اتائی ڈاکٹر مٹھو کیخلاف مزید کارروائی کیلئے کیس پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھجوا دیا ہے اور سفارش کی ہے کہ اتائی ڈاکٹر مٹھو کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جڑانوالہ اور گرد و نواح میں اتائیت کے مکروہ دھندہ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہونے کی صورت میں مبینہ ٹاٹ محکمہ صحت کے دفتر میں ڈیرے جما لیتے ہیں اور مبینہ طور پر کارروائی نہ ہونے کا جھانسہ دیکر افسران کے نام پر عطائیوں سے لمبی دیہاڑیاں لگا کر محکمہ صحت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اتائیت کو فروغ دینے میں ملوث محکمہ صحت کے افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کیساتھ ساتھ ٹائوٹ مافیا کیخلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں