احتجاج کے باعث مین شاہراہ کی بندش پر اظہار تشویش

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے احتجاج کے باعث مین شاہراہ کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب اور سندھ کا رابطہ منقطع ہونے کے باعث نہ وہاں سے مال آ رہا ہے اور نہ ہی پنجاب سے مصنوعات کی ترسیل ہو رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے باعث دو طرفہ ایکسپو رٹ اور امپورٹ کا عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ نیز کاروباری طبقہ اور عوام الناس کی مشکلات میں قدرے اضافہ ہو رہا ہے۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ اگر بالفرض پنجاب میں احتجاج ہو تو سخت ایکشن لیا جاتا ہے مگر سندھ کی حکومت اور وفاقی حکومت قصدا خاموش کیوں ہے۔ دونوں حکومتوں نے چند مظاہرین کا احتجاج ختم کروانے کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت کیوں نہیں کی۔ مین شاہراہ کی بندش سے پورا ملک بند ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں حکومتیں ملی ہوئی ہیں۔ اور ملک کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں۔ چنانچہ ایسی صورتحال میں ضروری ہو چکا ہے کہ آرمی چیف از خود مداخلت کریں۔ کیونکہ ان کی تمام معاملات پر نظر ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ تین،چار دن سے مین شاہراہ کی بندش وفاقی اور سندھ حکومت کے لیے چیلنج سے کم نہ ہے۔ چنانچہ عام آدمی کے اضطراب کے خاتمہ اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے فوری طور پر راستے واگزار کروائے جائیں۔ اہم قومی ایشو اور سنگین ترین عوامی مسئلہ پر دونوں حکومتوں کی خاموشی ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں