48

اخراجات میں کمی کیلئے ڈیڑھ لاکھ آسامیاں ختم کرنیکی سفارش (اداریہ)

حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو ڈیڑھ لاکھ آسامیاں ختم کرنے کی سفارش کر دی گئی 5وزارتوں میں 12ادارے ضم کرنے کی بھی تجویز’ وزیراعظم کی صدارت میں حکومتی ڈھانچے کا حجم اور اخراجات میں کمی سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کے حوالے سے وفاقی خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تجاویز پیش کیں کمیٹی کی جانب سے نان کورسز اور عام نوعیت کے کاموں مثلاً صفائی جنیٹیورٹل سروسز وغیرہ کو آئوٹ سورس کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے نتیجے میں گریڈ ایک سے 16تک متعدد آسامیاں بتدریج ختم کی جا سکیں گی اجلاس میں ہنگامی بنیادوں پر بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے وزارت خزانہ دیگر وفاقی وزارتوں کے کیش بیلنسز کی نگرانی کرے، دوران اجلاس پانچ وفاقی وزارتوں میں اصلاحات کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کی گئیں وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان’ وزارت سرحدی امور’ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن’ وزارت صنعت وپیداوار اور وزارت قومی صحت میں اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان اور وزارت سرحدی امور کو ضم کرنے کی تجویز دی گئی ان پانچ وزارتوں میں 28اداروں کو مکمل بند کئے جانے’ نجکاری اور دوسری وزارتوں یا وفاقی اکائیوں کو منتقل کئے جانے کی بھی تجویز زیرغور ہے وزیراعظم نے کہا ہے کہ مجوزہ اصلاحات کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے وزیراعظم نے کہا حکومتی اخراجات میں کمی ہماری ترجیح ہے حکومت کی ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور عوام کو فراہم کی جا رہی سروسز میں بہتری لانا ہے وزیراعظم نے کہا ایسے ادارے جنہوں نے پبلک سروس کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی اور قومی خزانے پر بوجھ ہیں ان کو یا تو فوری ختم کیا جائے یا پھر ان کی فوری نجکاری کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں” حکومت نے تین ماہ قبل فیصلہ کیا تھا کہ معیشت کو مشکلات سے نکالنے اور ملک کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر ڈالنے کیلئے اسٹرٹیجک کے سوا دیگر تمام سرکاری ادارے اور محکمے نجی شعبے کو فروخت کر دیئے جائیں جبکہ اس سے پہلے صرف خسارے سے دو چار اداروں کی نجکاری پر کام ہو رہا تھا گزشتہ دنوں وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 2024-29ء پر مشتمل 5سالہ نجکاری پروگرام کی منظوری دی گئی ہے اس دوران 24ادارے نجی شعبہ کے ہاتھ مرحلہ وار فروخت کئے جائیں گے ان میں پی آئی اے ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن 9بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور 4پیداواری کمپنیاں’ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن’ اسٹیٹ لائف انشورنس اور پاکستان ای انشورنس کمپنی سرفہرست ہیں کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ عمل جلد مکمل کیا جائے گا نجکاری تین مراحل میں مکمل ہو گا پی آئی اے اور ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی فروخت کی کام جلد مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی باری آتی ہے اس طرح پہلے مرحلے میں فیصل آباد’ اسلام آباد’ گوجرانوالہ اور دوسرے میں لاہور’ ملتان’ پشاور’ ہزارہ’ سکھر اور حیدرآباد کی کمپنیاں نجی شعبے کی تحویل میں دی جائیں گی، یہ ساری صورتحال اس لئے پیش آ رہی ہے کہ ملک پر واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم حالیہ دنوں میں 84ہزار ارب روپے پر پہنچ گیا ہے جس کی واپسی کے لیے سوائے نئے قرضے لینے کے حکومت کے پاس وسائل نہیں’ برآمدی شعبہ مسلسل خسارے میں جا رہا ہے جبکہ غیر معمولی حجم میں درآمدات رہی سہی کسر پوری کرنے کا باعث بن رہی ہیں” نجکاری کا آغاز 1988ء میں ہوا تھا اور اس میں سرفہرست 4بڑے بینک تھے ماضی میں پیش آنے والے حالات کی روشنی میں یہ کام ایک چیلنج سے کام نہیں جس کی شروعات پی آئی اے سے ہونے جا رہی ہے اس کی بنیادی شرط شفافیت ہے اور دیگر اداروں کے بشمول اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اس سے بے روزگاری پیدا نہ ہو بلکہ روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں نجی شعبے کی ترقی سے مقابلہ ومسابقت کو نمو ملتی ہے اور نئی سرمایہ کاری آنے کے حالات پیدا ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کرنے کیلئے جن اداروں کو دوسرے اداروں میں ضم کرنے اور ڈیڑھ لاکھ آسامیاں ختم کرنے کا پلان بنایا ہے اس پر عملدرآمد کرنے میں تاخیر نہ کی جائے اور جن سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان کو بھی جتنا جلد ممکن ہو سکے پرائیویٹ کر دیا جائے تاکہ حکومت اخراجات میں کمی ہو قرضوں کا حجم کم ہو اور عالمی مالیاتی اداروں سے مزید قرضے حاصل کرنے کی نوبت نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں