64

اسرائیلی دہشت گردی عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

اسرائیل کی لبنان’ یمن’ غزہ اور شام پر بمباری سے درجنوں افراد شہید ہو گئے اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں طیاروں نے حملوں میں حصہ لیا عرب میڈیا کے مطابق حدیدہ شہر کے اکثر علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی یمنی وزارت صحت اسرائیلی حملوں میں 4افراد کی شہادت اور 29افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اس سے قبل جولائی میں بھی اسرائیلی فضائیہ نے یمن کے شہر حدیدہ پر حملے کئے تھے، اسرائیلی حملوں پر ایران نے ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں حسن نصراﷲ کے قتل اور لبنان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی جائے گی، اسرائیلی فورسز کی جانب سے لبنان’ یمن’ شام اور غزہ میں بمباری پر خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جنگی صورتحال میں غیر ملکی سفارت کار بھی متحرک ہو گئے ہیں، پاکستان نے لبنان میں حزب اﷲ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراﷲ کی شہادت پر ردّعمل جاری کرتے ہوئے مشرق وسطی میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مہم جوئی کی مذمت کی ہے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں تشدد سے خطے کے عدم استحکام میں اضافہ ہو گا شہری آبادیوں پر اس قسم کے حملے بین الاقوامی قوانین کی پامالی ہے یہ حملے تشویشناک ہیں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے باز رکھے، سلامتی کونسل مشرق وسطیٰ میں امن بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، ایک طرف ناجائز اسرائیلی ریاست کی دہشت گردی بڑھتی جا رہی دوسری طرف امریکا نے اسرائیل کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہے امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرق وسطیٰ میں فورسز کو الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پینٹاگون اسرائیل کی حمایت کیلئے موجودہ افواج کی جنگی تیاریوں کو یقینی بنائے پینٹاگون کو 40ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور پینٹاگون نے بھی مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی فورسز کا دفاع یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور یمنی حوثیوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ امریکی عسکری اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، امریکی صدر کے بیان سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکا رہا ہے اسرائیل کو غزہ لبنان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے لیے اسلحہ گولا بارود مہیا کر کے امریکہ اور برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک صاف طور پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ کسی قائدے ضابطے کو نہیں مانتے اور وہ دنیا میں امن کے قیام کے بھی خلاف ہیں عالمی عدالت انصاف میں جہاں اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف بھی کارروائی کی بات ہونی چاہیے کیونکہ اسرائیل کو تقویت پہنچانے میں امریکہ اور اس کے حواری سرفہرست ہیں اس پوری صورتحال میں سب سے افسوسناک اور قابل مذمت کردار مسلم ممالک کے ان راہنمائوں کا ہے جو مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر کوئی ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں کر رہے حالات وواقعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسرائیل امریکہ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی آشیرباد سے مشرق وسطی میں عالمی جنگ چھیڑنے میں مصروف ہے جو عالمی امن کو تباہی کنارے پہنچانے کے مترادف ہے عالمی قوتوں کو خطے کو جنگ میں دھکیلنے کے بجائے اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنا ہو گا اگر عالمی جنگ ہوئی تو تباہی دور دور تک پھیل سکتی ہے مسلم ممالک کو بھی متحد ہو کر کفار کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی قوت میں استعمال میں لانے کیلئے تیار رہنا ہو گا اگر مسلمان ممالک دوسرے اسلامی ملکوں کی تباہی دیکھتے رہیں گے تو ایک دن وہ خود بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں