51

اسرائیل اور حماس میں پھر کشیدگی ،فلسطینیوں کی غزہ واپسی معطل

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کی پٹی کے شمال میں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک مرکزی سڑک بند کردی ہے۔یہ تنازع حماس کی جانب سے چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کی رہائی کے بعد سامنے آیا تھا اور اسرائیل نے 200فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔تاہم اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ کے شہریوں کو اس وقت تک شمال کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک اسرائیلی شہری اربیل یہود کو رہا نہیں کیاجاتا۔حماس نے اصرار کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اگلے ہفتے انھیں رہا کر دیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق حماس کو فوجیوں سے پہلے شہریوں کو رہا کرنا تھا۔ہفتہ کو ہی حماس نے بھی اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر کا الزام عائد کیا۔قطر ی اور مصری ثالث لاکھوں فلسطینیوں کو واپس شمال کی طرف لوٹنے کی اجازت دینے کی اپنی کوششوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ لیکن اسرائیلی ٹینک اب بھی ساحلی سڑک کو بند کر رہے ہیں جہاں سے لوگوں کو شمال کی طرف جانا تھا۔اسرائیلیوں نے ثالثوں سے حماس سے اربیل یہود کے لیے زندگی کا ثبوت مانگا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حماس نے یہ ثبوت مصریوں کو دے دیے ہیں۔ہفتہ کی شام جب وسطی غزہ میں الرشید روڈ پر لوگ گھروں کی واپسی کے لیے جمع ہوئے تو مبینہ طور پر گولیاں چلائی گئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے حماس کے زیر انتظام وزارت صحت اور فلسطینی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک شخص ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔مبینہ طور پر اس واقعے کی آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں چار گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔تصدیق کی ہے لیکن میڈیا آزادانہ طور پر کسی جانی نقصان کی خبروں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ وسطی غزہ میں فوجیوں نے درجنوں مشتبہ افراد کی نشاندہی کے بعد فائرنگ کی جو فورسز کے لیے خطرہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘حالیہ گھنٹوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے برعکس علاقے میں فائرنگ کے تمام واقعات لوگوں سے فاصلہ بنانے کے مقصد سے کیے گئے تھے نقصان پہنچانے کے مقصد سے نہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس مرحلے تک فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔’دریں اثنا، غزہ کے بہت سے باشندے کسی بھی ایسی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جو انھیں واپس آنے کی اجازت دے سکے۔ بہت سے لوگوں کے لیے، واپسی کی امید اس حقیقت سے کہیں زیادہ ہے جو کھنڈرات اور تباہی کی صوررت ان کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کے باوجودوہ زندگیوں کو دوبارہ حاصل کرنے، اپنے گھروں کی تعمیر نو اور اپنے خاندانوں کے ساتھ دوبارہ ملنے کا خواب ان کا حوصلہ قائم رکھے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں