اسرائیل فوجی قیدی خواتین کے بدلے فلسطینی رہا کرنے پر تیار

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل ہر فوجی قیدی خاتون کے بدلے 50فلسطینی رہا کرنے کو تیار ہوگیا۔اسرائیلی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ غزہ سیز فائر کے 3مراحل ہوں گے، غزہ میں یرغمال اسرائیلی شہریوں کے بدلے 30فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، اسرائیل معاہدے کے پہلے مرحلے میں فلاڈیلفی کوریڈور سے بھی دستبردار ہوگا۔معاہدے کے دوسرے مرحلے میں تمام قیدیوں کی رہائی ممکن ہوگی، تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو اور حکومت سازی پر کام ہوگا۔واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ہفتے غزہ پر کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ معاہدے کا اعلان آج منگل کو ہو سکتا ہے، انہی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ غزہ جنگ بندی اگلے بدھ 22جنوری سے پہلے موثر نہیں ہو گی۔ذرائع نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اس کے اعلان اور منظوری کے فورا بعد شروع ہو جائے گا، اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی ایک فہرست حوالے کی ہے جو وہ رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اشارہ دیا کہ مروان برغوثی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ذرائع نے مزید عندیہ دیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو معاہدے کے حوالے سے سکیورٹی مشاورت کر رہے ہیں، یہ پیش رفت امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے کہ اس ہفتے غزہ پر جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔نیز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے گزشتہ روز تصدیق کی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں