اسرائیل کی غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں سے وحشیانہ بمباری،ہزاروں لاشیں بخارات بن گئیں

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کی پٹی میں اسرائیلی طیاروں سے ممنوعہ ہتھیاروں کی بمباری سے 7,820لاشیں بخارات میں تحلیل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔سول ڈیفنس نے رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بمباری کے 10فیصد واقعات میں شہدا کی لاشوں کے کچھ حصے بخارات بن جاتے ہیں کیونکہ سول ڈیفنس کا عملہ لاشیں مکمل طور پر غائب ہونے کی وجہ سے نکالنے میں ناکام رہا یا ان کے صرف چھوٹے حصے باقی رہ گئے تھے۔غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البراش نے بتایا بعض حملوں میں دھماکے کا درجہ حرارت 4000ڈگری سے زیادہ تھا۔ التابعین سکول پر فجر کے وقت کے حملے میں بھی ایسا ہی ہوا اور بہت سے لاشیں ختم ہوگئیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں گزشتہ روز بھی جارحانہ کارروائیاں کرکے مزید 32فلسطینیوں کو شہید کردیا۔غزہ کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت میں اب تک شہدا کی تعداد 46537ہوگئی ہے۔حکام نے اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے شہدا کی تعداد میں 499 افراد کا اضافہ اس بنا پر بھی کیا کہ گزشتہ چند ماہ میں ان افراد کی اموات مجموعے میں درج ہونے سے رہ گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں