اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیر ملکی سافٹ وئیر کا انکشاف

اسلام آباد(بیوروچیف)حکومت نے قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے انضمام اور تبادلے کا نظام قائم کردیا، نیشنل سرٹ کا مقامی طور پر چلنے والا نظام پی ٹی اے اور پاک فوج کے سائبر ڈویژ ن کیساتھ منسلک کردیا گیا ہے جس کے تحت سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل سرٹ کا نظام مالویئر انفارمیشن شیئرنگ پلیٹ فارم کے ذریعے قائم کیا گیا ہے نیشنل سرٹ کا نظام پاکستان آرمی سائبر ڈویژن اور پی ٹی اے کے ساتھ منسلک کردیا گیا ۔ تینوں اداروں کے درمیان معلوماتی تبادلے سے مربوط قومی سائبر دفاع یقینی ہوگیا ہے تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے قومی سائبر سیکیورٹی مزید مستحکم ہوگئی۔مقامی طور پر چلنے والا ایم آئی ایس پی سسٹم ملک کی سائبر خودمختاری مضبوط بناتا ہے، مرکزی تھریٹ انٹیلی جنس سے سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی ہے بیرونی انٹیلی جنس پر انحصار کم اور جدید خطرات کے خلاف ریاستی تیاری میں بہتری، اہم قومی، سرکاری اور ٹیلی کام نظام کے نشانہ بنانے کے خطرات سے بروقت آگاہی ملے گی۔ریئل ٹائم میں خطرات کی تیز رفتار نشاندہی اور ردعمل سے سائبر حملوں کا پھیلائو محدود ہوگا، تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم ہوگی، مشترکہ انٹیلی جنس سے تھریٹ ہنٹنگ اور پیشگی خطرات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ دریں اثنا نیشنل سرٹ نے سافٹ ویئر و ہارڈ ویئر کے فوری آڈٹ اور سخت نگرانی کی ہدایت کردی ہے اور نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں