105

اسلام اور پاکستان دشمنوں کا مذموم ایجنڈا خاک میں ملانے کیلئے علماء متحد ہو جائیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) مرکزی چیئرمین بین المسالک و مذاہب رواداری کونسل پاکستان ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی ‘داعی پیغام پاکستان ممتاز عالم دین حضرت علامہ مولانا محمد ریاض کھرل’ مجلس تحفظ حرمین شریفین ومدیر اعلی کلیہ دارالقران والحدیث مفتی محمد انس مدنی’مدیر اعلی ادارہ نور الاسلام پیر ابواحمد محمد مقصود مدنی’ مرکزی رہنما و مدیر اعلی جامعہ عثمانیہ مفتی مظفر اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان اقتصادی معاشی اور سیاسی طور پر تاریخ کے انتہائی سنگین ترین لمحات سے گزر رہا ہے جس کی شدت جھونپڑی سے محل تک محسوس ہو رہی ہے 24کروڑ عوام بجلی گیس کے بلوں اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور اور قرض در قرض لے کر اہل وطن مایوس اور بے یار و مددگار ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں علما مشائخ آئمہ اور خطبا کا حق بنتا ہے کہ وہ نکل کر خانقاہوں سے رسم شبیری ادا کریں اور اپنا قومی اور ملی فریضہ انجام دیں پاکستان کے تمام تر مسائل کا حل اسی نقطہ میں ہے جو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے رہنمائوں نے اپنایا ۔قومی اتحاد سے پاکستان وجود میں آیا اور قومی اتحاد سے ہی ہم وطن عزیز کو معاشی اقتصادی اور سیاسی بحران سے نکال سکتے ہیں اس موقع پر اہل وطن کو بیدار کرنے کے لیے اور اس قومی اتحاد کے لفظ پر اکٹھا کرنے کے لیے نکلے ہیں تاکہ وطن عزیز کو اسلامی فلاحی اور خوشحال ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکیں اس میں ہمیں ادارہ جاتی نظم ریاستی ڈھانچہ سیاسی سماجی قائدین اور دیگر طبقات سے تعاون درکار ہے تاکہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کا مذموم ایجنڈا خاک میں مل جائے اور قومی اتحاد پیدا ہواس امر کو یقینی بنانے کے لیے الحمدللہ 25 سے زائد چھوٹی بڑی دینی فلاحی سماجی اور سیاسی تنظیمات اور ملک کے چاروں مکاتب فکر کے 500 سے زائد علما مشائخ نے اس امر میں مکمل تائید کی اور تعاون کا یقین دلایا ہے تاکہ قومی یکجہتی سے ملک کے جملہ مسائل کو موثر انداز میں حل کیا جا سکے۔ ہم اس موقع پر حکومتی ریاستی منتظمین کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرواتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی اسلامی ریاست کا رہنما ادارہ ہے جو کہ بدقسمتی سے 75 سال سے اپنی افادیت و اہمیت برقرار نہیں رکھ سکا اور اراکین و چیئرمین کی نامزدگی سیاسی طور پر کی جاتی ہے اور ایک ہی فرد کئی مرتبہ عرصہ دراز سے چلے آرہے ہیں ادارہ ہذا کے چیئرمین وارا کین فراغت پا چکے ہیں مشاورتی عمل کے ذریعے اور ملک بھر سے چاروں مکاتب فکر کے اکابرین کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ ادارہ ھذا کے اغر از و مقاصد اور ملک و قوم کی نظریاتی عملی قانونی رہنمائی کا حق ادا کر سکے اور اہل کشمیر و فلسطین کو شکنجہ ظلم سے نجات دلانے کے لیے او ائی سی اور اقوام متحدہ سے متحرک کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ہم اس موقع پر وطن عزیز کے لیے لازوال قربانیاں دینے والے شہدا کو سلام عقیدت اور عرض وطن کے پاسبانوں کی حفاظت کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں آج سے اس باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا جا رہا ہے ابتدائی طور پر مختلف مقامات پر پروگرامزکئے جائیں گیخصوصی طور پر نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری اس جدوجہد کا حصہ بنیں اور ہمیشہ کی طرح وطن عزیز کی فلاح کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ہم سب ساتھ ہیں اوراس جدو جہد کومیاب بنانے کی اپیل کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں