35

اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے پر وزیراعظم برہم (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ پر سخت برہم’ چینی کی سپلائی اور قیمت کنٹرول کے حوالے سے اجلاس میں چینی کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت وزیراعظم نے کہا عوام کو اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے وزیراعظم نے چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر عام آدمی کو سستے داموں اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائیں رمضان المبارک میں چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیموں کے کنٹرول کے حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی” وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ملک میں مہنگائی بڑھنے پر اظہار برہمی اور چینی سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کے ذخیرہ اندوزوں اور ان کے نرخوں میں اضافہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت خوش آئند ہے مگر اس ہدایت پر عمل تو اسی وقت ہی ہو سکتا ہے جب عملدرآمد کرانے والے مخلص ہوں اس وقت وفاق کے علاوہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے ایک طرف یہ دونوں حکومتیں سب اچھا ہے کے دعوے کر رہی ہیں اور دوسری طرف وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے تقریباً سبھی شہروں میں رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے گھی’ خوردنی آئل’ سبزیاں’ پھل’ چینی’ دالیں’ بیسن’ چاول’ مصالحہ جات’ بیف’ مٹن’ چکن’ انڈے ہر چیز کے نرخوں میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے تمام اضلاع کی انتظامیہ مہنگائی مافیا پر کنٹرول پانے میں ناکام نظر آ رہی ہے اشیاء خوردونوش مہنگی ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے کے خواہش مندوں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے بازاروں’ مارکیٹوں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی کم ہی نظر آ رہے ہیں منافع خوروں ذخیرہ اندوزوں اور اشیائے خوردونوش کو ادھر ادھر کرنے والوں کو شکنجہ میں کسنے والے افسران اور عملہ غائب ہے حکومت سے پوچھا جانا چاہیے کہ رمضان بازار لگانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟ اگر اشیائے خوردونوش سرکاری داموں پر عام آدمی کو بھی دستیاب ہو تو کوئی بھی رمضان بازاروں کا رُخ نہ کرے اور حکومت کی طرف سے رمضان بازار قائم کرنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے،، اس حوالے سے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہنگائی عام دکاندار نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے بس کی بات ہے کہ وہ کسی شے کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کر دے اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو اربوں کھربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں ان تاجروں کی رسائی پارلیمان تک بھی ہے اس لئے ان کے خلاف نہ تو کبھی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی قابل قیاس مستقبل میں اس کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے اگر حکومت واقعی سنجیدگی سے مہنگائی پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے ایک بھرپور کارروائی ان عناصر کے خلاف کرنا ہو گی جو ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے گھنائونے سلسلوں کو فروغ دے رہے ہیں جب یہ ایسی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں ہوتی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے دعوے زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے وزیراعظم نے چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ دیگر اشیائے خوردونوش کے نرخوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی حکم جاری کیا ہے جس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف حرکت میں آ جانا چاہیے تاکہ روز داروں کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر مل سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں