101

”اعتکاف کی فضیلت، اہمیت اور برکات”

تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر محمد سعید طاہر
اسلام دین فطرت ہے اس کی عبادات پر نظر دوڑائیں تو اجتماعیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنی اپنے آپ کو کسی شے پر روکے رکھنے یا پابند کر لینے کے ہیں اور اصلاح شریعت میں کسی مسجد کے اندر عبادت کی نیت سے اپنے آپ کو کسی مدت کے لیے پابند کر لینا “اعتکاف” کہلاتا ہے۔ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ھوتا ہے یعنی بیسویں روزہ کی شام کو شروع ھوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے پر ختم ھو جاتا ہے ۔
اعتکاف کا اصل مقصد گوشہ نشینی اختیار کر کے اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہے اس لئے کہ نفس انسانی اسے ہر وقت برائی پر اکساتا رہتا ہے۔ اس لیے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا “بے شک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے ” ( یوسف 53:12). اسلام دین فطرت ہے اس کی عبادات پر نظر دوڑائیں تو اس میں اجتماعیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے نماز علیحدہ بھی پڑھیں جا سکتی ہے مگر اس کے ساتھ جماعت و امامت کا قاعدہ مقرر کر کے اور جمعہ اور عیدین کے بڑے اجتماعات کے ذریعے نماز کے سماجی اور روحانی فیوضات کو وسیع حلقوں میں پھیلا دیا ۔ روزہ فردا فردا رکھنا بھی اصلاح اور تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے مگر مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کا ایک ہی مہینہ مقرر کر کے اس کے فائدے اتنے بڑھا دئے گئے کہ شمار میں نہیں آ سکتے ۔ زکوٰة الگ الگ دینے میں بھی بہت خوبیاں تھیں مگر اس کے لیے بیت المال کا نظام مقرر کر کے صفت دوبالا کر دی گئی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے بھی دنیا بھر سے ان گنت قوموں اور بے شمار ملکوں ہزاروں راستوں سے ایک ہی مرکز کی طرف چلے آتے ہیں شکلیں ،رنگ اور لباس جدا جدا ھوتے ھیں مگر اس مرکز توحید ورسالت پر سب کا لباس ایک ، مقصد ایک اور زبان بھی ایک ھو جاتی ہے اور ہر طرف “لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک” کی صدائیں آ رہی ھوتی ھیں۔ یہی حالت اعتکاف کی ہے۔ تنہا اعتکاف میں بھی بے شمار ثمرات ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحابہ اکرام کے ساتھ مل کر مسجد نبوی میں اعتکاف کرتے اور شب قدر کو تلاش کرنے کی تلقین فرماتے ۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ کسب معاش سے روکا اور نہ خلوت گزینی سے ، نہ تو ان پر معاشرتی زندگی سے باہر جانے کی پابندی لگائی اور نہ گوشہ نشینی کو جزو لاینفک قرار دیا بلکہ ایک درمیانہ راستہ بتایا ۔ وہ یہ کہ معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ مل جل کر رھو ۔ اپنے لئے بھی اسباب معیشت تلاش کرو اور دوسروں کے کام بھی آ اور جب ادھر سے تھک جا اور اپنے دل کو دنیاوی محبت سے زنگ آلود ھوتا دیکھو تو خدا کے گھر میں داخل ھو جا ۔ دکان و مکان ، آل اولاد ، مال و دولت ، دوست و رشتہ دار سب سے منہ موڑ کر خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو جا اور کچھ دنوں تک اپنے دل کی میل اور زنگ جو تلاوت قرآن پاک ، حمد و نعت ، تسبیح و تسلسل ، درود و سلام اور نوافل کے ریگ مال سے دور کرو ۔ اسی گوشہ نشینی اور حاضری کا نام اعتکاف ہے ۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “جو شخص ایک دن میں بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اعتکاف کرتا ہے تو اللہ رب العزت اس شخص کے اور دوزخ کے درمیان تین ایسی خندقوں کے برابر دیوار فرما دیتا ہے جن خندقوں کا فاصلہ زمین وآسمان کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے “ایک اور حدیث شریف ملاحظ ھو” جو شخص رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرے تو اسے دو حج اور دو عمرے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف بیٹھتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات(پاک بیویوں)نے اعتکاف کیا ۔(بخاری شریف)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے “ہر رمضان میں ایک قرآن پاک کا دورہ ھوتا تھا جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آس سال دو بار قرآن پاک کا دورہ کیا گیا ہر سال دس دن اعتکاف فرماتے مگر وفات کے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا ۔(بخاری شریف)۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کا شرف ملتا ہے جہنم کی آگ سے آزاد ہیں وہ جسم جو بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہیں قابل رشک ہیں وہ آنکھیں جو یاد خدا میں آنسو بہاتی ہیں ۔ قابل تحسین ہیں وہ پیشانیاں جو مالک کے حضور سجدہ ریز ھوتی ھیں ۔ رمضان المبارک کی پر بہار ساعتوں میں آخری عشرہ میں جب گھر چھوڑ کر تمام مصروفیات سے منہ موڑ کر دس دن اللہ کے گھر میں مہمان بن جاتا ہے اور پھر دن اور رات اللہ کی یاد میں بسر کرتا ہے ۔ یہ عشرہ اعتکاف کی تجلیات کا مشاہدہ کرا دیتا ہے بندہ اپنے گھر بار سے دور ماں باپ ، بیوی بچوں کو چھوڑ کر ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کے گھر حاضر ھوتا ہے ایسے عالم میں جب وہ خدا سے طلب کرتا ہے تو خدا کی رحمت اُس کو مایوس نہیں کرتی ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی فقیر کسی بادشاہ کے دروازے پر آئے اور وہاں سے ہلنے کا نام ہی نہ لے صدا پر صدا لگاتا رہے کبھی تو بادشاہ کو ترس آئے گا اور وہ کچھ نہ کچھ اسے ضرور عطا کرے گا ۔ ھمارا اللہ ھمارا خالق ھمارا مالک بادشاہوں کا بادشاہ مالک الملک ہے وہ ہر سخی سے زیادہ دینے والا ہے۔ اس کی غیرت کب گوارا کرتی ہے کہ کوئی یوں ساری دنیا سے الگ ھو کر اس کی چوکھٹ پر بیٹھ جائے اور وہ اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے۔ زندگی کے تیزی سے گزرتے لمحوں کا پتہ نہیں یہ سانس کا ساز جانے کہاں بے آواز ھو جائے ۔ اس سال یہ سعادت ملی ہے اگلے سال اس کی ضمانت نہیں ۔ اس سال کی حاضری کو ثمر آور بنانے کے لیے اعتکاف کے آداب پورے کرنا اور لمحہ لمحہ ان کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اعتکاف کے دوران ہر قسم کی غیر شرعی حرکات سے مکمل پرہیز کیا جائے اور زیادہ تر وقت قرآن پاک کی تلاوت اور نوافل پڑھتے گزار جائے ۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے ھمیں رمضان المبارک کی رحمتوں اور خوشیوں کو سمیٹنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں