افغانستان دہشتگردوں کی سرپرستی سے باز رہے (اداریہ)

صدر زرداری نے کہا ہے کہ بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا ہو گا ہم کسی کو اپنا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے صدر مملکت نے کہا نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کا تحفظ’ دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بنانا ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے پیر کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ خطاب کرتے ہوئے کیا صدر نے اپنے خطاب میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کی شہادت کی مذمت کی صدر نے کہا قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے جمہوریہ کی طاقت آئین’ عوامی ثابت قدمی’ پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری’ مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے نئے پارلیمانی سال کے آغاز میں ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ملکی خودمختاری کا تحفظ’ آئین کی حکمرانی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے ایران پر جنگ مسلط کرنے کی مذمت کرتے ہیں پاکستان نے برادر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کیلئے حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے کہا جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی ہمسایوں میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہیں یہ تباہ کن جنگ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی تھی انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے آج ہم ان بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھی۔ ہماری بہادر افواج نے معرکہ حق میں بھارتی حملے کو تذویراتی فتح میں بدل دیا، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہو سکتا پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی ریاست ہے اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی’ خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن’ تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں سی پیک 2پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا مسئلہ فلسطین پر پاکستانی اصولی موقف رکھتا ہے سندھ طاس معاہدے کو التواء میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں،، صدر آصف علی زرداری کا نئے پارلیمانی سال کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب اور ملکی وبین الاقوامی مسائل بارے خیالات کا اظہار پارلیمان میں عالمی سیاسی حالات کا تذکرہ’ ملکی سیاسی صورتحال افواج پاکستان کے شاندار کردار’ کشمیر کی سفارتی حمایت’ فلسطین میں اسرائیل کی بربریت اور ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر قرار دیا صدر نے کہا کہ خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں جس پر اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو امن کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، بلاشبہ! صدر مملکت نے عالمی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس کا حل بھی پیش کیا جو ان کی دور اندیشی کا مظہر ہے، ایران کے خلاف جنگ کے خاتمہ کیلئے پاکستان کو سفارتی سطح پر کوشش کرنی چاہئیں تاکہ خلیجی ممالک میں جنگ جیسی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں