24

افغانستان کی احسان فراموشی افسوسناک امر (اداریہ)

جنوبی ایشیا میں پاکستان کے دو ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان پاکستان سے دشمنی رکھنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے دونوں ہی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں ان کے ساتھ لاکھ وفا کر لی جائے وہ اپنے مقصد کے حل ہونے تک خاموش’ بعد میں اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیتے ہیں دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ احسان فراموش قوموں نے کبھی کسی دوستی کا حق ادا نہیں کیا، ان کے وجود میں وفا نہیں بلکہ مفاد بولتا ہے افغانستان کے حکمرانوں نے بھی اپنا رنگ ایک بار پھر دکھایا ہے پاکستان نے افغانستان کی خاطر جو قربانیاں دیں وہ اگر کسی اور قوم کیلئے دی جاتیں تو شائد وہ قوم نسلوں تک احسان مند رہتیں مگر افسوس’ افغانستان نے پاکستان کو ہمیشہ دھوکے اور زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ کی حکومت نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد دنیا میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک کے عوام نے ہجرت کی جسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی پاکستان نے 4سے 5ملین پناہ گزینوں کو نہ صرف خوشدلی سے پناہ دی بلکہ اسکول’ اسپتال’ خوراک’ رہائش اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے یہ کوئی چند سال کا بوجھ نہیں تھا بلکہ چار دہائیوں پر محیط ایک طویل آزمائش تھی، پاکستان نے ان پناہ گزینوں کو اپنے دل اور گھر میں بسائے رکھا مگر اس کا صلہ کیا ملا؟ کاشنکوف کلچر’ منشیات’ دہشت گردی اور معاشی تباہی ان عناصر نے پاکستان میں رہ کر پاکستان کو نقصان پہنچایا، یہ وہی قوم ہے جسے ہم نے اپنے ہی گھر میں مہمان سمجھ کر رکھا لیکن ان افغانوں نے پاکستان کے خیرخواہ ہونے کا کبھی بھی ثبوت نہیں دیا حالانکہ ان کا برسراقتدار آنا بھی پاکستان کا مرہون منت ہے لیکن طالبان نے پاکستان سے خوشگوار تعلقات کے بجائے بھارت کا آلہ کار بننے کو ترجیح دی بھارت جو پہلے ہی پاکستان دشمنی میں اندھا ہو رہا ہے اس کو پاکستان کے خلاف سازش کرنے کا موقع مل رہا ہے طالبان نے حالیہ کچھ عرصے سے جس طرح سرحد پار سے پاکستان کے فوجیوں اور شہریوں پر حملے کئے ان کو شہید کیا اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے حالانکہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتا چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کو روکنے کیلئے اسے سمجھانے کی کوشش کرتا چلا آ رہا ہے لیکن افغانستان نے اس طرف کبھی توجہ نہیں دی پاکستان نے ہمیشہ اسلامی اخوت کی بنیاد پر افغانستان سے برادرانہ تعلقات کی کوشش کی مگر یہ تعلق ہمیشہ یکطرفہ رہا افغانستان نے حالیہ سرحدی خلاف ورزی کر کے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ دہشت گرد گروہوں جو کہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانے بنا کر پناہ لئے ہیں کے خلاف کارروائی کرے پاکستان کی جانب سے کارروائی کے بعد طالبان کے ہوش ٹھکانے آ گئے اگر اس نے بھی روش کو ترک نہ کیا تو پھر اس سے بھی سخت ردعمل ہو سکتا ہے، جیسا کہ درج بالا سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ افغانی پاکستان سے وفا کرنے والے نہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے مفاد کو فوقیت دے اور تمام غیر قانونی افغان باشندون کو ملک بدر کرے افغان سرحد کو ناقابل عبور بنایا جائے طالبان کے ساتھ تعلقات کو محدود کر کے پاکستان کی سلامتی کو اولین ترجیح بنایا جائے افغان حکومت اور ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے وجود سے خائف ہیں پاکستان کو ان دونوں ہمسایہ ممالک سے ہمہ وقت ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کی کسی غلطی کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں