66

افغان باشندوں کو پاکستان بدر کرنے کا فیصلہ (اداریہ)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ 31دسمبر کے بعد افغانی اسلام آباد میں نہیں رہ سکیں گے انہوں نے کہا ایک روز کے دوران 19افغان شہری پکڑے ہیں جو مظاہرین میں شامل تھے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہیں وزیرداخلہ نے کہا افغانیوں سمیت کسی بھی غیر ملکی کو حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دیں گے 31دسمبر کے بعد کوئی افغانی این او سی کے بغیر اسلام آباد میں نقل وحرکت یا رہائش نہیں رکھ سکے گا ڈی جی رینجرز پنجاب جنرل محمد عاطف بن اکرم کے ساتھ پمز ہسپتال کا دورہ کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی احکامات کے باوجود اسلام آباد پر دھاوا بولنے سکیورٹی اہلکاروں پر جدید اسلحہ اور آنسو گیس فائرنگ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی پر وزارت داخلہ توہین عدالت کی درخواست دائر کرے گی انہوں نے کہا افسوس ہے کہ افغانی شہری جن کی پاکستان میزبانی کر رہا ہے وہ بھی حملہ آوروں میں شامل تھے سکیورٹی اداروں نے گزشتہ روز 19افغانیوں کو حراست میں لیا اور ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد علم ہوا کہ ان کے پاس این او سی نہیں وہ کس حیثیت سے حکومتی اجازت کے بغیر اسلام آباد میں داخل ہوئے ان کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ احتجاجی جلوس میں شامل ہوئے انہوں نے بتایا کہ 26نومبر کو پولیس اور رینجرز نے فائٹ کی ان سے لڑنے والے افغان شہری تھے وہ بہت تربیت یافتہ تھے کوئی سیاسی جماعت کسی غیر ملکی کو ٹرینڈ کر کے لائے تو وہ احتجاج نہیں یقینا دہشت گردی ہے، پمز ہسپتال میں ایف سی پولیس اور رینجرز جوانوں کی عیادت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی رینجرز پنجاب نے ان کی جرأت بہادری اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا وزیرداخلہ نے کہا کہ آپ قوم کے ہیرو ہیں آپ نے شرپسندوں کے عزائم خاک میں ملائے شرانگیزی کے باوجود آپ نے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا محسن نقوی نے اے ایس پی محمد علیم کو لاہور شفٹ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ زخمی اے ایس پی کی آنکھ بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، وفاقی وزیر عطاء اﷲ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والوں کو ہماری فورسز نے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کرکے مثالی کارنامہ سرانجام دیا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے سے 37افغان باشندے گرفتار ہوئے ان کے ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جن کا دہشت گردی’ چوری’ ڈکیتی سے تعلق ہے اور مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں افغان شہریوں سے 43 گنیں برآمد کی گئیں ہیں جن میں گرنیڈ’ گنز’ آنسو گیس چلانے والی گنیں اور جدید اسلحہ شامل ہے یہ اس نیت سے آئے تھے کہ امن خراب کیا جائے پی ٹی آئی کی جماعت قبل ازیں بھی احتجاجی جلسوں ریلیوں اور دھرنے میں افغانی باشندے شریک ہوتے رہے ہیں،، ملک کی سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے سے ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے والی سیاسی جماعت کا منصوبہ خاک میں مل چکا ہے بدقسمتی سے یہ سیاسی پارٹی اپنے ناپاک ارادوں کو کامیاب بنانے کیلئے پاکستان کے مخالفوں سے بھی ہاتھ ملانے میں دیر نہیں لگاتی اس بار بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا اور افغانیوں کو اپنی ریلیوں اور دھرنے میں شامل کیا حکومت کے وفاقی وزیر عطاء اﷲ تارڑ کے مطابق احتجاج میں شامل 37افغان باشندوں کو فورسز نے حراست میں لیا ہے جن سے جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان شہری پاکستان میں رہ کر بھی اس ملک کے خلاف مصروف کار ہیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکم دیا ہے کہ 31دسمبر کے بعد کوئی افغان شہری اسلام آباد میں نہ رہے گا صرف ان افغان باشندوں کو رہائش اور آنے کی اجازت ہو گی جن کے پاس این او سی ہوں گے، افغان مہاجرین کی برسوں سے پاکستان میزبانی کر رہا ہے مگر یہ من کے کالے اس ملک کا کھا کر بھی اسی ملک کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہو رہے ہیں دہشت گردوں کی سہولت کاری بھی کر رہے ہیں جن کے بارے میں رپورٹس مل چکی ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت افغان باشندوں کو یہاں سے رہنے کا بالکل موقع نہ دے اور 31دسمبر کے بعد ہر حال میں ان کو پاکستان بدر کر دیا جائے کیونکہ یہ کسی صورت بھی پاکستان سے وفا کرنے والے نہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں