7

اقتدار بے رحم ہوتا ہے

میں جس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں، وہ بلاشبہ حساس ہے۔ایسا موضوع جس پر بات کرتے ہوئے یہ خیال بھی دل میں آتا ہے کہ دوست احباب، پڑھنے والے یا قریبی لوگ اس تحریر کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ مگر تاریخ کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ ہماری پسند و ناپسند کے مطابق خود کو نہیں بدلتی، اور سچ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ تحریر کسی فرد، گروہ یا نظریے کے خلاف نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کے اس پہلو کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جو طاقت، خوف اور عدمِ تحفظ کے باہمی تعلق سے جنم لیتا ہے۔سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ تقریبا چھ صدیو ں پر محیط ہے، جس میں کل 36سلا طین نے حکومت کی۔ اس عظیم سلطنت کی بنیاد عثمان غازی نے رکھی، جن کے نام پر یہ سلطنت منسوب ہوئی، جبکہ اس کا اختتام سلطان محمد ششم وحیدالدین پر ہوا، جن کے دور میں خلافت کا رسمی طور پر خاتمہ ہوا۔ اس طویل تاریخ میں جہاں عدل ، فتوحات اور تہذیبی عظمت کے ابواب ملتے ہیں، وہیں کچھ ایسے واقعات بھی دفن ہیں جو انسان کو اندر تک ہلا دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ سلطان محمد ثالث سے منسوب ہے، جنہوں نے 1595 میں تخت نشینی کے فوراً بعد اپنے 19 بھائیوں کو قتل کروایا۔ روایت ہے کہ ان میں بعض کم عمر بچے بھی شامل تھے، جنہیں ریشمی فیتوں سے خاموشی کے ساتھ قتل کیا گیا تاکہ شاہی خون زمین پر نہ گرے۔ اس لمحے سلطنت کو ایک حکمرا ن تو مل گیا، مگر محل کی دیوارو ں نے انسانی رشتوں کی چیخیں سنیں۔ یہ واقعہ کسی ایک شخص کی سفاکی سے زیادہ اس خوف کی تصویر ہے جو غیر محفوظ اقتدار کے ساتھ جنم لیتا ہے۔یہاں اصل سوال سلطان محمد ثالث کی ذات نہیں، بلکہ وہ خوف ہے جو اقتدار کے ساتھ چپک کر چلتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اقتدار مضبوط اور جائز ہو تو اسے خون کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بے رحمی وہاں جنم لیتی ہے جہاں تخت تو مل جاتا ہے، مگر اس پر بیٹھنے کا یقین نہیں ہوتا۔ جو خود کو طاقتور سمجھتا ہو، وہ دشمن کو زندہ رہنے دیتا ہے؛ مگر جو اپنے اقتدار سے خوفزدہ ہو، وہ سب سے پہلے اپنے قریبی رشتوں کو مٹاتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم کی انتہا اکثر طاقت کے عروج پر نہیں، بلکہ طاقت کے کھو جانے کے اندیشے میں دیکھی جاتی ہے۔اگر اس تناظر کو موجودہ دور پر منطبق کیا جائے تو یہ رویہ صرف تاریخ کے اوراق تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ آج کے ایوانوں میں بیٹھنے والے حکمران عوام کی طاقت اور ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر آتے ہیں، مگر اقتدار حاصل ہونے کے بعد اکثر ان کا طرزِ فکر بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ فیصلہ سازی میں عوام، جنہوں نے انہیں وہاں تک پہنچایا، رفتہ رفتہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور اقتدار کو محفوظ رکھنے کی تدبیریں اولین ترجیح بن جاتی ہیں۔ مسئلہ شاید افراد کا نہیں، بلکہ اس خوف کا ہے جو اختیار ملتے ہی جنم لیتا ہے جہاں خدمت کے بجائے بقا اصل مقصد بن جاتی ہے۔اگر ہم اپنے حالیہ سیاسی تجربے پر نگاہ ڈالیں تو یہ نفسیات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ 2018 کے بعد قائم ہونے والی حکومت بھی اسی اقتدار کے نشے کی ایک مثال بن کر سامنے آئی، جہاں اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے ختم کرنے کی خواہش غالب نظر آئی۔ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے، ان کی آواز بند کرنے اور انہیں ہمیشہ کے لیے منظر سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں۔ اقتدار کو عوام کی امانت سمجھنے کے بجائے اسے دائمی حق بنانے کا خواب دیکھا گیا، اور اسی نشے میں عوام کے اصل مسائل پسِ پشت چلے گئے۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر وہی سبق دہرایا جو وہ صدیوں سے دیتی آ رہی ہے: اقتدار کسی کا مستقل نہیں ہوتا۔ آج وہی حکمران، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھ رہے تھے، قید و بند کی سلاخوں کے پیچھے ہیںاور یہ منظر اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اقتدار کے نشے میں کیے گئے فیصلے بالآخر انسان کو خود اپنے انجام تک لے آتے ہیں۔یہاں عوام کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ اور حال دونوں یہ بتاتے ہیں کہ اگر ووٹ محض ایک رسم بن جائے اور سوال کرنا گستاخی سمجھا جانے لگے، تو اقتدار خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا۔ باشعور قومیں حکمرانوں کو صرف منتخب نہیں کرتیں، بلکہ مسلسل یاد دلاتی رہتی ہیں کہ اختیار امانت ہے، ملکیت نہیں۔ جب عوام خاموش ہو جائیں تو ایوان مضبوط نہیں ہوتے، بلکہ بے خوف ہو جاتے ہیںاور بے خوف اقتدار اکثر بے رحم فیصلوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔تاریخ کے ایوانوں میں بھائیوں کا قتل ہو یا آج کے زمانے میں عوام کی خاموشی، دونوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے: اقتدار کا خوف ۔ اس وقت اقتدار بچانے کے لیے رشتے قربان کیے گئے، اور آج اقتدار قائم رکھنے کے لیے وعدے پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ چہرے، زمانے اور طریقے بدل گئے ہیں، مگر نفسیات وہی ہے جہاں اختیار کو خدمت کے بجائے تحفظ سمجھ لیا جائے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اقتدار جب اخلاق سے کٹ جائے تو وہ آخرکار خود اپنے وجود کو بھی کھا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ حکمران کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم نے اقتدار کو جواب دہ رکھا ہے؟ کیونکہ بے اقتدار ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو اختیار پا کر بھی خود کو غیر محفوظ سمجھے اور ایسا اقتدار، ہر دور میں، رحم سے خالی ہی ثابت ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں