اقتصادی ترقی کیلئے جدت پسندی ناگزیر ہے،ڈاکٹر خرم طارق

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)نوجوان نسل میں دورحاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشہ وارانہ مہارتیں پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ اس کے ثمرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سمیٹے جا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل آباد ڈاکٹر خرم طارق نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بزنس انکوبیشن سنٹر کے زیراہتمام ”جدت کا سفر اور خیالات کو حقیقی جامہ پہنانے” کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کاروباری شخصیت وحید رامے اور بزنس انکوبیشن سنٹر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار احمد نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ آئندہ دس سالوں میں عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سائنس کی 18کروڑ نوکریاں متوقع کی جا رہی ہیں اور پاکستان کو بھی اس میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لئے جدت پسندی ناگزیر ہے۔ انہوں نے طلبہ و نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی سوچ میں وسعت لاتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھنے کے راستے تلاش کریں۔ انہوں نے طلباء اور نوجوان پیشہ ور افراد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ روایتی فریم ورک سے ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت پیدا کر کے اپنی منفرد سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کاروبار کا آغاز کریں۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں طلبہ کی کاروباری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال متعدد طلبہ سٹارٹ اپس کمپنیوں کا آغاز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کی فضا کو فروغ دیتے ہوئے اختراعی سوچ کو پروان چڑھانا ہو گا تاکہ علم پر مبنی معیشت کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بزنس انکوبیشن سنٹر کے تعاون سے جامعہ زرعیہ کے 40 سے زائد طلبہ نے سٹارٹ اپس کمپنیوں کا اجراء کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں