114

اقتصادی’ معاشی ترقی کیلئے جامع اصلاحات ناگزیر (اداریہ)

پاکستان اس وقت معاشی بحران میں گھرا ہے اقتصادی ترقی کے اہداف بھی حاصل نہیں ہو رہے کاروباری ادارے وتاجروں میں بے چینی ہے وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں مہنگائی’ بدامنی’ معاشی مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہی ہیں تاہم تاحال مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے بجٹ کی آمد آمد ہے وفاق اور چاروں صوبوں کی حکومتیں معاشی مسائل سمیت دیگر بحرانوں سے نمٹنے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں مگر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کے باعث فوری اور عوام کو ریلیف دینے کے فیصلے کرنے میں دشواری کا سامنا ہے بجٹ میں منصفانہ اور متوازن معیشت کے قیام کی پکار ہر شخص کی آواز ہے ملک کا ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ بجٹ میں عام آدمی کی زندگی آسان بنائی جائے عام آدمی کا معیار زندگی برقرار رکھنے کیلئے کافی اجرت’ اچھے حالات کار’ رہائش’ تعلیم’ صحت کی سہولیات صاف ستھرا ماحول’ خوراک اور سماجی تحفظ کے حقوق فراہم ہوں اور ہر ایک کو باوقار اور مفید زندگی گزارنے کا موقع ملے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں کم ازکم اجرت کا حکومت اعلان تو کر دیتی ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جاتا مزدور یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والے کو اجیر کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق معاوضہ دیں گے اگر منظور ہو تو کام کر لیں ورنہ کوئی دوسری جگہ ڈھونڈ لیں ”مرتا کیا نہ کرتا” کے مصداق عام آدمی جو ملتا ہے وہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اگر اس دفعہ بھی حکومت نے صرف کم ازکم اُجرت کا اعلان کرنا ہے عملدرآمد نہیں کرانا تو پھر بہتر ہے نہ اعلان ہی نہ کیا جائے، معاشی انصاف ہی امن کا ضامن ہے اور سماجی انصاف جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے بدعنوانی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو متاثر کرتی ہے، ملک میں اقتصادی’ معاشی’ ترقی کیلئے جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں حکومت کو اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کمزور اداروں اور غیر مؤثر قانونی نظام کے باعث طاقت ور افراد اور گروہ اپنے فائدے کے لیے نظام میں ھیرا پھیری کرتے ہیں اشرافیہ ملک کی دولت میں غیر مناسب حصہ رکھتی ہے، یہ تغاوت’ تعلیم’ صحت اور روزگار کے مواقع تک غیر مساوی رسائی کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے معیشت کا ایک حصہ غیر رسمی شعبے میں کام کرتا ہے جہاں کارکنوں کو ملازمت سوشل سکیورٹی اور منصفانہ اجرت کا تحفظ نہیں ہوتا معاشی ناانصافیاں مجموعی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کیلئے ترقی پسند ٹیکس پالیسوں اور تمام شہریوں کیلئے بنیادی معیار زندگی کو یقینی بناتی اُجرت ‘ سماجی تحفظ کے پروگرام اور ٹارگٹڈ سبسڈی کا نفاذ کیا جائے،، وزیراعظم میاں شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے زیرصدارت جاتی امراء رائے ونڈ میں بجٹ ریلیف سفارشات کے حوالے سے ایک طویل اجلاس ہوا جس میں صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جائے انہوں نے بجٹ مشاورتی اجلاس میں اپنے وسیع تر سیاسی وانتظامی تجربے کی بنیاد پر ہدایات بھی جاری کیں اس موقع پر وفاقی وزراء اور سیکرٹریز نے اپنے اپنے محکموں کے ممکنہ ریلیف اقدامات سے بھی آگاہ کیا، صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف’ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز’ وفاقی وزراء اور اعلیٰ بیوروکریٹس کا بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنا خوش آئند ہے لیکن بجٹ تجاویز میں معیشت کی بحالی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ بات سامنے نہیں آئی اقتصادی بحالی کیلئے حکومت کا کیا پلان ہے اس کو بھی عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے برآمدات بڑھانے اوورسیز پاکستانیز کو زیادہ سے زیادہ رقوم قانونی طریقے سے پاکستان بھجوانے کیلئے راغب کیا جائے صنعتکاروں’ تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے عام آدمی کی کم ازکم اجرت 50ہزار کی جائے اور اس پر ہر صورت عملدرآمد کرایا جائے تاکہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے مہنگائی پر قابو پایا جائے روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا جائے زراعت کی ترقی کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں امن وامان کے قیام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں