65

الخدمت فائونڈیشن کی شاندار خدمات

ملک کے بیشتر علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں مگر اس سال مون سون شروع ہوتے ہی دریائوں میں بڑھتے پانی اور سیلاب لینڈ سلائینڈنگ بادلوں کے پھٹنے اور سیکڑوں اموات کے رونما ہونے کے دل خراش واقعات میں بہت جانی ومالی نقصان کیا ہے صوبہ خیبر میں تو بونیر سوات اور دیگر شہر تو صفحہ ہستی سے مٹنے کی خبریں آرہی ہیں آفت آنے کے بعد فوری امدادی سرگرمیوں کی فوری اور اشد ضرورت ہوتی ہے اس وقت شاید جماعت اسلامی کی الخدمت فائونڈیشن کے سواکچھ نظر نہیں اتا حکومت نام کی کوئی چیز ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پا رہی تھی آرمی کے جوان جو الخدمت فائونڈیشن کے رضا کاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے نظر آئے ذمہ داری تو یہ حکومت وقت کی ہوتی ہے مگر حکومت کو اس کی شاید پرواہ نہیں بلکہ ان کے لیے تو یہ غیر ضروری اور وقت کا ضیاع ہے اس سال خیبر سے پنجاب تک کراچی سے دریائے ستلج تک اور دیگر مقامات دریاں میں سیلاب اور بارشوں نے خوب تباہی پھیلائی دوسری طرف انڈیا نے بھی دریائوں میں پانی چھوڑ کر ہمیشہ کی طرح اپنی دشمنی کا ثبوت دیا یہ پانی سیلاب کی صورت اختیار کر گیا اور دریاں کے ساتھ نشیبی علاقے اور سینکڑوں دیہات زیر اب ا گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے نزدیکی آبادیاں تو دریا برد ہو گئی کئی مقامات مویشی اور مکانات بہہ گئے۔یہ سیلاب ہر سال آتے ہیں تباہی بھی پھیلاتے ہیں جانی و مالی نقصان ہوتا ہے مگر کبھی اس طرف توجہ نہیں دی جاتی کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور نہ دریا کے نزدیک آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کا مستقل اور ٹھوس بنیادوں پر حل نکالا جاتا مگر ایسا نہیں ہوتا لگتا ہے حکومت کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے ورنہ ہر سال اتنی بڑی تعداد میں جانی مالی نقصان نہ ہوتا بے حسی کی انتہا ہے کہ حکومت پانی میں ڈوبے لوگوں کو دیکھتی رہ جاتی ہے مگر پانی میں ڈوبے لوگوں کو نکالنا ان کی ترجیح نہیں ہوتا لوگ پانی میں بہہ کر اللہ کے ہاں پہنچ جاتے ہیں مگر کوئی ہیلی کاپٹر یا حکومتی مشینری ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچتی دل دہلا دینے والے واقعات ہوتے ہیں اپنی مدد اپ کے تحت لوگ کوشش کرتے نظر آتے ہیں حکومتی مشینری اس وقت نظر آتی ہے جب پانی سروں سے گزر جاتا ہے کیا عوام اپنے نمائندوں کو اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ان پر جب کوئی آفت یا مصیبت کا وقت آئے تو وہ صرف تماشائی کا کردار ادا کریں جب بارشوں اور سیلاب کے پانی میں گھرے ہوئے ہوں تو اس کو بچانے کے لیے کوئی حکومتی مشینری یا ہیلی کاپٹر تک نہ پہنچ پائے بے حسی کے انتہا ہے ایسی حکومت جو عوام کے جان و مال کی حفاظت نہ کر سکے اسے اپنے منصب پر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں اتنی بڑی تعداد میں جانی مالی نقصان کے بعد حکومتی نمائندوں کو تو اپنی نا اہلی کی بنیاد پر استیفے دے دینے چاہیے جیسا کہ دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے یہاں ڈھٹائی اور بے حسی کا عالم ہے سب اچھا ہے کا راگ علاپتے نظر آتے ہیں سانحہ رونما ہو جاتا ہے اور پھر کسی دوسرے سانحے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں یہی چال چل رہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں الخدمت فائونڈیشن کے رضاکار ہی اپنی شاندار کارکردگی میں نظر آرہے ہوتے ہیں بونیر میں تو جماعت اسلامی کا رضاکار لوگوں کی جانوں کو بچاتے ہوئے خود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا پانی میں بہہ گیا اس سے بڑی اور شاندار کارکردگی کیا ہو سکتی ہے وزیراعظم میاں شہباز شریف سے لے کر دیگر وزرا تک مذہبی جماعتوں سے سیاسی جماعتوں ٹک نے الخدمت فائونڈیشن کی سرگرمیوں کو شاندار الفاظ میں سراہا ہے جماعت اسلامی کو ووٹ نہ دینے کی سزا بھی لوگ بھگتتے ہیں مگر سیلاب اور آفت کے وقت انہیں یہی اپنے دائیں بائیں نظر آتے ہیں پوری دنیا میں الخدمت فائونڈیشن جہاں انسان بے سروسامانی جنگی حالات سیلاب زلزلہ کی زد میں آتے ہیں وہاں بلا تفریق قوم و نسل مذہب اپنے رضاکار بھیج دیتی ہے حافظ نعیم الرحمن سے ڈاکٹر حفیظ الرحمن لیاقت بلوچ سے وقاص انجم جعفری تک اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت تمغہ حسن کارکردگی کے مستحق ہیں مگر میرا خیال ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور انہیں کسی تمغے کی تمنا اور ضرورت نہیں ہے کرتے نظر آتے ہیں اور وہ اللہ سے اپنی شاندار کارکردگی کا اجر و ثواب چاہتے ہیں یہی لوگ عوام کے حقیقی نمائندے ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں