31

اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے

کائنات میں بننے والے سارے قوانین اور ضابطوں کا بنیادی مقصد ہر ذی روح کو ایک اچھا انسان بنانا ہے۔ ویسے تو انسان بادشاہ ہے انسان وزیر ہے اور انسان ہی فقیر ہے۔ کبھی وہ ظالم بن جاتا ہے اور کبھی مظلوم بن کر اپنی داد رسی کے لئے در در دھکے کھاتا ہے۔ کوئی اپنے ہی در سے لوگوں کو دھکے دیتا ہے تو کوئی ان دھکوں کے نتیجے میں دنیا کا اصل چہرہ دیکھ کر یا تو ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر سوچ بچار کے نتیجے میں ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھتا ہے اور ایک نئے روپ میں اپنی دنیا آباد کر لیتا ہے۔ یہ سارے کردار ہیں بلکہ اس سے بھی مختلف قسم کے بے شمار اور کردار ہیں جو انسان کو ادا کرنا ہوتے ہیں۔ون پونے کردار۔ ورائٹی بلکہ ورائٹی شو کا ایک اہم کردار انسان۔ ابھی تو بلھا بن کر ناچے گا اور پھر پتہ نہیں کیا کیا ہوگا۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ محض دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور آگے بڑھ کر کھیلنیوالے دیکھے جاتے ہیں۔ بعض تو ایسے انسان بھی ہیں جن کو دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے اور بعض محض خواب میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اتنے سارے انسانوں کو ایک جیسا اول تو بنایا نہیں جاسکتا تاہم کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے اور اس کوشش میں سب سے زیادہ عمل دخل انسان دوستی کا ہے اور انسان دوستی کے لئے دل بڑا کرنا پڑتا ہے۔ دل ہی تو اصل چیز ہے جس سے کارخانہ زیست کا نظام چلتا ہے ایسے تو نہ درد دل کا لفظ تخلیق ہوا ہے۔ درد ہم سب کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کرتا ہے اور درد ہی ہم سب کو ایک دوسرے کے بارے میں سوچنے پر مجبورکرتا ہے بلکہ آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے غم بانٹنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔ (درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔۔ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں) علامہ محمد اقبال رح بھی کیا کمال کے آدمی تھے جلال اور جمال کے فرق کو بھی خوب سمجھتے تھے اور کمال اور زوال کی بابت ان کے ہاں تاریخ کا عمیق مطالعہ تھا۔ ایسے تو نہ وہ اقبال بن کر علم و معارف اور ادب کی دنیا کے درخشندہ ستارے بن گئے تھے۔ درد دل رکھنے والے انسان ہمسائے کو کھلا کر سوتے ہیں۔ جن کا کوئی نہیں ہوتا وہ ان کے بھی ہوتے ہیں اور پھر انسانیت کی بنیاد پر رشتے قائم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی کے زینے چڑھتے ہیں۔ اسی درد کی بنیاد پر ان کو دنیائے ارض وسما میں مدتوں یاد رکھا جاتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایسے لوگ ہی اذکرکم کی عملی تفسیر پیش کرتے ہیں۔اس سلسلے میں ہمارے ہاں بھی ویسے تو بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ تاہم عصر حاضر میں عبدالستار ایدھی سے بڑھ کر انسانیت کے لئے کام کرنے والا شاید ہی کوئی دیکھا گیا ہو۔ اس نے نہ تو کوئی معاوضہ مانگا نہ داد طلب کی نہ کسی عہدے کامتمنی ہوا اور نہ ہی قوم سے اس شخص نے کسی اجر کا مطالبہ کیا۔ بس کام کام اور کام اور اس سارے کام کی بنیاد “درد دل”۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پائے جانے والے لوگوں کی خدمات ایک طرف اور میاں ایدھی ایک طرف۔ زندگی بھی منفرد اور پھر جنازہ بھی منفرد۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے والے ہی منفرد ہوتے ہیں۔ ویسے مسبب الاسباب اللہ کی ذات ہے۔ یہ فقرہ ویسے تو میں نے ان گنت دفعہ سنا تھا لیکن اس کا شعوری احساس مجھے اس وقت ہوا جب میں ایک دن راجن پور کے کچے کے علاقے میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور معززین علاقہ کے ساتھ موجود تھا۔ جب حقیقت کھل کھلا کے آشکار ہوتی ہے تو انسان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اس سارے عمل میں جو جو کردار حصہ لے رہے ہوتے ہیں بعض اوقات ان کو بھی معاملات کا پورا ادراک نہیں ہوتاہے۔ ہوا کچھ یوں کہ مجھے ایک تنومند نوجوان ملا جو شکل سے کافی حد تک مضطرب محسوس ہوتا تھا اس نے اپنا تعارف جو کروایا وہ یہ تھا کہ اس کا تعلق ایک بہت بڑے سیاسی گھرانے سے ہے اور وہ اکیلا ساٹھ ستر مربعے زمین کا مالک ہے اس دوران وہاں موجود لوگوں نے بھی اس کی خوب تعریف کی۔ ویسے ہمارے ہاں جس کی زیادہ تعریف ہوتی ہے اس کے ساتھ بعد میں ہاتھ ہو جاتا ہے اور ہاتھ کرنے والا کوئی غیر نہیں اپنا ہی ہوتا ہے۔ ویسے تو ہم سب اپنے ہی ہیں چونکہ ہم آدم جائے ہیں ایسے تو نہ ہم آدمی کہلائے ہیں تاہم آدمی آدمی سے مختلف ہوتا ہے۔ کاش ہم ایک جیسے ہو جاتے تو راز زندگی پا جاتے لیکن راز زندگی پانے کے لئے درد دل کا شعوری احساس ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ مذکورہ زمیندار نوجوان سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ سنجیدہ تھا اور بظاہر معقول اور بھلا مانس دکھائی دیتا تھا۔ اس سے مجھے تو بہت ہی ہمدردی ہوگئی اور ساتھ ہی مجھے اس کی دنیا اور آخرت بنانے کی فکر محسوس ہونے لگی۔ میں نے آنا فانا اس کو بے شمار مشورے دے ڈالے اور وہ میرا منہ تکنے لگا۔ سب سے پہلے تو میں نے اس کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ انسان سیاست میں آکر متنازعہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ذاتی حیثیت میں خیر کا کام کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا ہے۔ پھر اس کو خیر کے کام کی نوعیت کے بارے میں تفصیلا بتایا گیا۔ صوفیا کے لنگر اور صوفیا کی درس وتدریس کے بارے میں خدمات کے سلسلے میں ایک لمبا چوڑا لیکچر دیا۔ ایدھی صاحب کی انسان دوستی اور اس کے نتیجے میں کار خیر کی پذیرائی کی بھی بات کی گئی۔ آخر پر اس پر واضح کیا گیا کہ جہاں اس وقت ہم بیٹھے تھے وہاں علم کی بہت کمی ہے جب کہ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ راجن پور کے کچے کو علم کی طاقت سے پکے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں ہائر ایجوکیشن بہت ہی مہنگی ہے اور اکثر والدین اپنے ذہین بچوں کو اس لئے پڑھا نہیں پا رہے ہیں کہ ایسا کرنے کی ان میں سکت نہیں ہے۔ اس اہم موضوع کی حساسیت کو اس پر اجاگر کر کے اس نوجوان روشن خیال زمیندار کو دعوت فکردی کہ آپ ایسے بچوں کی فیسیں ادا کرکے خیر کا کام کریں اور یوں اپنی دنیا وآخرت بنا کر سرخرو ہوجائیں گے۔ اس مرحلہ پر وہاں موجود لوگوں میں سے ایک صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے ایک ایسا لڑکا یہاں کھڑا تھا جو لوگوں سے استدعا کررہا تھا کہ اس کا قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ ہوا ہے اور اس کا باپ اس کی فیس ادا کرنے کا متحمل نہیں ہے۔ کوئی ہے جو اس کی فیس ادا کردے۔ اس بات پر سب سے پہلے تو ہم اپنے منہ میاں مٹھو بننے لگے کہ متذکرہ بالا بچے کا وہاں موجود لوگوں سے فیس مانگنا اور پھر میرا مذکورہ نوجوان کو ذہنی طور پر فیس کی ادائیگی کرنے کے لئے تیار کرنا۔ اس کو کہتے ہیں وجدان۔ ویسے مزے کی بات ہے کہ اس سارے وقوعہ کا مجھے شعوری احساس نہیں تھا گویا کہ اللہ تعالی نے میرے دل میں بات ڈال دی اور دل سے نکلی ہوئی بات اثر رکھتی ہے۔ ہم تو بات پر پکے ہو گئے اور اس نوجوان سے ضرورت مند طالب علم کی ضرورت پوری کرنے کا پرزور مطالبہ کردیا اور “نو” کے لفظ کو متروک قرار دے دیا۔ یوں دو نوجوان ایک دوسرے کے قریب آگئے ایک نے فیس ادا کرکے اپنی دنیا اور آخرت سیدھی کر لی اور دوسرے کی ضرورت پوری ہوگئی اور اس کا مستقبل تابناک ہو گیا اس کو کہتے ہیں۔ انسان دوستی۔ یقیننا اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں