12

امراض قلب سے بچائو کیلئے 11 غذائیں بہترین قرار

کراچی ( بیو رو چیف )ہارٹ اٹیک سمیت امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے والی 11بہترین غذائیں،دل کی صحت سے جڑے مسائل بشمول ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی یا اس عضو کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصان کے لیے امراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے۔مگر حالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اچھی غذائوں کے استعمال سے جان لیوا امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔تو ایسی ہی غذاں کے بارے میں جانیں جو امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔جو کے دلیے میں فائبر نامی غذائی جز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو کے استعمال سے امراض قلب کا شکار بنانے والے متعدد عناصر جیسے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔بادام کھانے کی عادت جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح میں کمی لاتی ہے اور صحت کے لیے مفید کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح بڑھاتی ہے۔بادام ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات سے لیس ہوتے ہیں جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔بادام کھانے سے بلڈ پریشر کی سطح میں بھی کمی آتی ہے جس سے بھی امراض قلب سے مزید تحفظ ملتا ہے۔مونگ پھلی پروٹین، چکنائی اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ چکنائی کی یہ قسم صحت کے لیے مفید خیال کی جاتی ہے جس سے کولیسٹرول لیول کم ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ مونگ پھلی دل کی صحت کے لیے اخروٹ اور باداموں جتنی ہی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مونگ پھلی کھانے سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے اور دل کی صحت بہتر ہونے سے دماغی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔مچھلی کا گوشت بھی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق مچھلی میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔یہ فیٹی ایسڈز ورم کش ہوتے ہیں اور امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں۔بلیو بیریز، اسٹرابیریز اور بلیک بیریز میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔اینٹی آکسائیڈنٹس سے جسمانی ورم میں کمی آتی ہے جبکہ خون کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ان بیریز میں قدرتی مٹھاس کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے جس سے بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے اور بلڈ شوگر بھی امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والا ایک عنصر ہے۔شکرقندی میں پوٹاشیم نامی جز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔پوٹاشیم دل کی شریانوں کو صحت مند رکھنے کے لیے اہم جز ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔بلڈ پریشر میں اضافے سے امراض قلب خاص طور پر ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔سیب کھانے کی عادت کو امراض قلب کا خطرہ کم کرنے سے منسلک کیا جاتا ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ سیب کھانے سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے۔یہ غذائی جز بلڈ کولیسٹرول کی سطح کنٹرول کرتا ہے جبکہ اس میں موجود پولی فینولز سے بلڈ پریشر کی سطح گھٹ جاتی ہے، یہ دونوں ہی امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے بڑے عناصر ہیں۔ایک اور تحقیق کے مطابق سیب کھانے کی عادت سے فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔دالوں کا استعمال بھی دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔2024 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دالوں میں نباتاتی پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔یہ نباتاتی پروٹین دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔مالٹے فائبر اور پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں اور یہ دونوں غذائی اجزا دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائبر سے بھرپور غذا کے استعمال سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔اسی طرح مالٹوں میں موجود پوٹاشیم سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔دالوں کی طرح بیج بھی نباتاتی پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بیجوں میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔امرود سے جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن بہتر ہوتا ہے جس سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔اسی طرح یہ پھل خون میں چکنائی یا کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس سے امراض قلب سے تحفظ ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں