امریکہ’ ایران مذاکرات’ پاکستان کو شرکت کی دعوت (اداریہ)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کر دی’ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان کو امریکہ ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے سفارتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے غیر ملکی میڈیا کے مطابق خطے میں کشیدگی کو کم اور ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کیلئے امریکا ایران مذاکرات جمعہ کو استنبول میں ہوں گے’ بات چیت میں سعودی عرب’ قطر’ مصر’ عمان اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت جاری ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں بُرے نتائج نکل سکتے ہیں’ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے وزیرخارجہ کو ہدایت دی ہے کہ دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ماحول میں منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کئے جائیں ایرانی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ استنبول مذاکرات سے متعلق ایران نہ تو پُرامید ہے اور نہ ہی مایوس ہے، بات چیت سے معلوم ہو گا کہ امریکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں، قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کیلئے علاقائی کوششیں جاری ہیں اور خطے میں اعلیٰ ترین سطح پر رابطے ہو رہے ہیں علاوہ ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان منگل کو ریاض پہنچ گئے یہ دو سال سے زیادہ عرصہ میں ان کا پہلا دورہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ نے شدید کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششوں کے ذریعے ایران کو امریکہ سے مذاکرات کیلئے راضی کیا غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات جمعہ کو دوبارہ شروع ہوں گے امریکہ ایران جوہری مذاکرات پانچ ادوار کے بعد مئی 2023ء سے تعطل کا شکار تھے” امریکہ ایران مذاکرات کا جمعہ کو ہونے کا اعلان ہو چکا ہے مذاکرات میں سعودی عرب’ قطر’ مصر’ عمان’ متحدہ عرب امارات کے علاوہ پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جس کی تصدیق پاکستان دفتر خارجہ نے کی ہے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات مئی 2023ء سے تعطل کا شکار تھے اور دوبارہ جنوری 2026ء میں ہو رہے ہیں مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا اس بارے ایران اور دیگر ممالک پُرامید ہیں کہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے تاہم امریکی صدر ساتھ ہی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں جبکہ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی دفاعی تیاریاں زیادہ سے زیادہ ہیں ایران ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار ہے ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی جس کا مقصد واضح ہے کہ ایران امریکی صدر کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں… اس کے باوجود وہ مذاکرات پر آمادہ ہے مسلم ممالک’ مصر’ قطر’ سعودی عرب’ متحدہ عرب امارات اور پاکستان ایران امریکہ مذاکرات میں شریک ہوں گے اور اس سلسلے میں سب ممالک کی یہ ہی کوشش ہو گی کہ مذاکرات کسی مثبت نتیجہ پر پہنچ جائیں کیونکہ خطے میں قیام امن کیلئے ضروری ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے امریکہ اس وقت بڑی طاقت ہے اور اس کے ساتھ ایران کا ٹکر لینا دشوار ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ کشیدگی سے بچنے کیلئے ہوش مندی سے کام لیا جائے جمعہ کو ہونیوالے اجلاس کا کیا نتیجہ نکلے گا اس بارے فی الحال قبل ازیں وقت کچھ نہیں کیا جا سکتا تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ اجلاس کسی نہ کسی نتیجے پر ضرور پہنچے گا، ایرانی قیادت کو موقع کی نزاکت کو سمجھنا ہو گا اسی میں فی الوقت بہتری نظر آ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں