37

امریکہ- سعودی عرب دفاعی معاہدہ اور علاقائی سلامتی کا مثلث

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیرِ بحث دفاعی معاہدہ اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی جانب سے خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے پیش نظر باقاعدہ سکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ یہ معاہدہ ، جب بھی طے پاتا ہے، خطے کے جیوپولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، خاص طور پر حال ہی میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پائے گئے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) کے تناظر میں۔امریکی اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی مذاکرات کا معاملہ پہلے اسرائیل کے ساتھ سعودی تعلقات کی معمول پر لانے کی وسیع تر کوششوں سے منسلک تھا۔ تاہم، غزہ میں 2023-2024کے تنازعے کے بعد، سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر زور دیا، جس سے یہ وسیع معاہدہ فی الحال تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں، اب مذاکرات کا دائرہ تنگ کر کے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان دو طرفہ دفاعی معاہدے پر مرکوز کر دیا گیا ہے۔ موجودہ رپورٹوں کے مطابق، یہ معاہدہ “تقریبا حتمی” شکل میں ہے اور توقع ہے کہ یہ امریکہ – قطر سکیورٹی معاہدے کی طرز پر ہو گا، جس میں مملکت پر کسی بھی مسلح حملے کو امریکہ کی “علاقائی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ” قرار دیا جائیگا۔ معاہدے کے اہم عناصر میں واشنگٹن کی جانب سے دفاع کی باقاعدہ ضمانتیں، سعودی عرب کو جدید امریکی ہتھیاروں کی فراہمی،اور چینی دفاعی خریداریوں پر پابندی شامل ہے۔ سفارتی ذرائع سے یہ اطلاعات ہیں کہ معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر اگلے ماہ (نومبر2025)سعودی ولی عہد محمد بن سلما ن کے وائٹ ہاس کے آئندہ دورے کے موقع پر کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی قیادت کی خواہش ہے کہ اس دورے کے دوران “کسی نہ کسی شکل کا معاہدہ” ضرور طے پا جائے تاکہ 2019 میں سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے وقت امریکی ردعمل میں مبینہ ہچکچاہٹ کے بعد سعودی عرب کی ڈیٹرنس (خوف پیدا کرنے کی صلاحیت)کو مضبوط کیا جا سکے۔سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستا ن کیساتھ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) کیا ہے، جس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی دفعہ شامل ہے: “کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دوسرے ملک کے خلاف جارحیت سمجھا جائیگا۔” تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کیساتھ متوقع سکیورٹی معاہدہ اس SMDAکو ختم یا کمزور نہیں کرے گا، بلکہ یہ سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی میں “اضافی سکیورٹی”(Strategic Redundancy)کا کام کرے گا۔ سعودی عرب کی یہ خارجہ پالیسی دراصل سٹریٹجک ہیجنگ پر مبنی ہے، جس کے تحت امریکہ کیساتھ معاہدہ سعودی عرب کو روایتی جنگی ساز و سامان اور اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کی ضمانت دیتا ہے، جو دہائیوں سے سعودی دفاع کی بنیاد ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے ساتھ معاہدہ ایک مضبوط، سٹریٹجک اور سیاسی اتحاد فراہم کرتا ہے، جس میں پاکستان کی جوہری طاقت کی وجہ سے ایک ضمنی سکیورٹی پرت بھی شامل ہو جاتی ہے۔ ریاض کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ایک سپر پاور اور ایک جوہری طاقت سے باہم منسلک ہو کر اپنی ڈیٹرنس کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھا لے۔ اس دوہرے اتحاد کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ-سعودی معاہدے سے پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے اقتصادی معاہدوں یا دفاعی سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ درحقیقت، پاکستان کو SMDA کے ذریعے امید ہے کہ سعودی عرب اس کی دفاعی صنعتی بنیاد میں بڑی سرمایہ کاری کرے گا، جو نہ صرف سعودی عرب کیلئے فوجی تنوع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی کمزور معیشت کو بھی سہارا دیگا۔ امریکہ اس دوہرے اتحاد کو خاموشی سے قبول کر رہا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب پر علاقائی سکیورٹی کا بوجھ بانٹنے کی ترغیب دیتا ہے اور ریاض کو چین یا روس جیسے حریفوں پر زیادہ انحصار کرنے سے روکتا ہے۔ سعودی عرب ایک سکیورٹی مثلث مکمل کر رہا ہے جو ایک طرف عالمی سپر پاور اور دوسری طرف ایک علاقائی جوہری طاقت کے ساتھ اس کی دفاعی ضروریات کو پورا کرتا ہے، جس سے خطے کے حریفوں کو یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ سعودی عرب پر کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتائج عالمی اور علاقائی سطح پر بھاری ہوں گے۔ مجموعی طور پر، یہ معاہدے سعودی عرب کے لیے محض جنگی تیاری نہیں ہیں بلکہ یہ خطے میں اس کی سٹریٹجک حیثیت کو واضح اور مستحکم کرنے کا ذریعہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں