امریکہ ٹیرف بھارتی معیشت کو لے ڈوبا

کراچی (بیورو چیف)بلوم برگ کے مطابق 50فیصد امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات دباو کا شکار ہیں، مودی حکومت کی کوششیں جاری ہیں مگر سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں، رپورٹ میں بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے بھارت کی شرح نمو 6.4فیصد سے کم کر کے6.2فیصد کر دی ہے۔ بھارت کی معیشت اور مالیاتی منڈیاں اس وقت ترقی کے حوالے سے ایک دوسرے کے متضاد اشارے دے رہی ہیں، جس سے پالیسی سازوں کے لیے معاشی سرگرمیوں کا سہارا دینا مشکل ہو گیا ہے۔بلوم برگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 50 فیصد بلند ترین ٹیرف نے بھارت کی برآمدی فضا پر دباو بڑھا دیا ہے کیونکہ برآمد کنندگان کو امریکہ سے آرڈرز ملنا کم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ مودی صارفین اور کاروباری اخراجات کو بڑھا کر معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن متضاد معاشی اشارے بتاتے ہیں کہ سرمایہ کار ابھی تک مستقبل بارے میں پر اعتماد نہیں ہیں۔ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے میں مسلسل تاخیر بھارت کی معاشی سمت پر دباو ڈال رہی ہے۔ اگرچہ بھارتی حکام رابطوں کے قریب ہونے کا دعوی کرتے ہیں، لیکن آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال کی شرح نمو کا اندازہ 6.4 فیصد سے کم کر کے 6.2 فیصد کر دیا ہے۔ نئی دہلی اس تخمینے کو مبالغہ سمجھتی ہے اور دعوی کرتی ہے کہ بھارت نئے برآمدی بازاروں میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے۔اس حوالے سے بینکار دھیرج نم کہتے ہیں مختلف معاشی اشاریے بتا رہے ہیں کہ معیشت مکمل رفتار سے نہیں چل رہی۔ کچھ شعبے مضبوط نتائج دے رہے ہیں، جبکہ کئی شعبے آرڈرز میں کمی اور سرمایہ کاری کی کمزوری کا سامنا کر رہے ہیں۔ آکسفورڈ اکنامکس کی ماہر معاشیات الیگزینڈرا ہرمن نے کہا کھپت بڑھ رہی ہے مگر اسے مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہونا چاہیے۔ بھارت جیسے ملک میں کھپت ہی ترقی کی بنیادی محرک ہونی چاہیے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ماہر معاشیات سومیا کانتی گھوش کے مطابق بھارت کا مارکیٹ شیئر متحدہ عرب امارات، چین، ہانگ کانگ اور کئی ایشیائی معیشتوں میں بڑھ رہا ہے جو بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مددگار ہوگا۔ حکومت آئندہ پارلیمانی اجلاس میں درجن بھر اہم بلز منظور کروانے کی تیاری کر رہی ہے جن میں لیبر ریفارمز کے بعد سرمایہ کاری اور روزگار بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں