امریکہ کو ہتھیاروں کے ذخیرہ کی کمی کا سامنا،چین،روس اور عمان جنگ بندی کیلئے سرگرم

کراچی(بیوروچیف) مشرق وسطی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے بعد چین ، روس اور عمان جنگ بندی کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں، چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے اسرائیلی ہم منصب سار سے رابطہ کرکے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے انہوں نے فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا ، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایرانی اور عمانی ہم منصبوں کو فون کرکے کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے ، اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ معائنہ کاروں کو اسرائیلی اور امریکی دعووں کے باوجود جوہری ہتھیار بنانے کے لئے ایران کے کسی مربوط پروگرام کا ثبوت نہیں ملا، روس نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں ۔عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ایجنسی نے ایران میں “جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لئے کسی منظم اور ڈھانچہ جاتی پروگرام کے عناصر” کی شناخت نہیں کی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سار کو ایک کال میں متنبہ کیا کہ بیجنگ ان حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، “طاقت مسائل کو حقیقی معنوں میں حل نہیں کر سکتی،اس کے بجائے، یہ صرف نئے مسائل اور شدید اثرات لائے گی۔انہوں نے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہاہے کہ ایران پر حملے کے بعد خطے میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے،خطے کے تمام ممالک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے،عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں صورتحال کی کشیدگی کم کرنے کے لیے متبادل راستے اب بھی “دستیاب” ہیں۔اعلی سفارت کار نے کہا، “عمان فوری جنگ بندی اور ذمہ دارانہ علاقائی سفارت کاری کی طرف واپسی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔ متبادل راستے دستیاب ہیں۔ آئیے انہیں استعمال کریں۔”روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے ساتھ فون پر بات چیت کی تاکہ ایران کے گرد و نواح کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔دریں اثنائ۔واشنگٹن /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ ایمل بیرڈ کوپر نے کہا ہے کہ ایران میں تقریبا 2 ہزار اہداف پر حملے کئے، ایران کی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کر دیا گیا، دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران میں زیرِ زمین جوہری تنصیب پر حملے کا دعوی کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں اب کوئی بھی ایرانی بحری جہاز نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں موجود امریکی خطرے کو ختم کیا جا رہا ہے، ہم نے ایران میں تقریبا 2 ہزار اہداف پر بمباری کی، آپریشن میں 50 ہزار اہلکار حصہ لے رہے ہیں، 200 فائٹر جیٹ، 2 ایئر کرافٹ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ایمل بیرڈ کوپر نے کہا کہ ایران میں پوری طاقت کے ساتھ آپریشن کیا جا رہا ہے، ہم نے سیکڑوں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون تباہ کر دیئے۔اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے، ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم کر دی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے، اہداف کے حصول تک ایران سے جنگ جاری رہے گی۔دوسری جانب امریکا نے مقاصد کے حصول تک ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی سفارتی دفاتربراہ راست حملوں کی زد میں ہیں، دبئی میں امریکی قونصل خانے سے ملحقہ پارکنگ ایریا میں ڈرون حملہ ہوا، امریکی حکومت کی جانب سے انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی فوجیوں اور شہریوں کی سکیورٹی ترجیح ہے، فضائی حدود کا بند ہونا ہمارے لئے چیلنج ہے، مشرق وسطی میں امریکیوں کو سفارت خانوں سے رابطہ کرنا چاہیے، جنگ کے آغاز سے اب تک 9 ہزار امریکی خطے سے نکل چکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے ایران میں زیرِ زمین جوہری تنصیب پر حملے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنصیب میں ایٹمی ہتھیار کے اہم جز پر خفیہ کام جاری تھا، سائنسدان تہران کے مغربی علاقے میں زیرِ زمین کمپانڈ میں ایٹمی ہتھیار پر کام کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس نگرانی کے بعد مقام کی نشاندہی کر کے درست نشانہ بنایا گیا، ایرانی سائنسدان جون میں جنگ کے بعد نئی خفیہ جگہ منتقل ہوئے تھے۔دوسری جانب خلیجی ممالک میں امریکا کی بیشتر تنصیبات ایران کے نشانے پر ہیں، ایرانی فوج نے مشرق وسطی میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعوی کر دیا۔ایرانی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 650 ہوگئی۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحر ہند میں 650 کلو میٹر دور ایندھن بھرنے والے امریکی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔دریں اثنائ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی فوج کو ہتھیاروں کے ذخیرے کی کمی کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہتھیاروں کے لا محدود ذخائر کا دعوی کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر دفاعی کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، ملاقات میں اسلحہ سازی کی رفتار تیز کرنے پر بات کی جاسکتی ہے، نائب وزیر دفاع 50 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی تیاری کررہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ریتھیون کمپنی ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار ایک ہزار سالانہ تک بڑھانا چاہتی ہے، دفاعی کمپنیوں پر دبا ہے کہ وہ شیئرہولڈرز کو منافع دینے کے بجائے پیداوار بڑھانے پر توجہ دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں